بنیادی مسائل کے جوابات — Page 379
ہے ، کیونکہ یہ روایت در روایت پہنچی ہیں۔اگر کوئی شخص اس بات کی قسم کھاوے کہ قرآن شریف کا حرف حرف کلام الہی ہے اور جو یہ کلام الہی نہیں ہے تو میری بیوی پر طلاق ہے تو شرعا اس کی بیوی پر طلاق وارد نہیں ہو سکتا۔اور جو حدیث کی نسبت قسم کھالے اور کہے کہ لفظ لفظ حرف حرف حدیث کا وہی ہے جو رسول اللہ الم کے منہ سے نکلا ہے۔اگر نہیں ہے تو میری جو رو پر طلاق ہے تو بے شک و شبہ اس کی بیوی پر طلاق پڑ جاوے گا۔یہ حضرت اقدس کی زبانی تقریر کا خلاصہ ہے۔“ ( تذكرة المهدی، مؤلفہ حضرت پیر سراج الحق نعمانی صفحہ 161 مطبوعہ جون 1915) ارشاد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ایک صاحب نے اپنی بیوی کو لکھا کہ اگر میں تمہیں اس مکان پر بلاؤں یا تم خود آؤ تو تم پر طلاق۔اب وہ اپنی بیوی کو اس مکان پر بلانا چاہتے ہیں۔جواب لکھا گیا کہ اس مکان میں آجانے پر ایک طلاق واقع ہو گا۔جس سے اُسی وقت بلا نکاح رجوع ہو سکتا ہے۔اگر مدت گزر جائے تو پھر بالنکاح رجوع ہو گا۔اخبار الفضل قادیان دارلامان جلد 2 نمبر 113 مؤرخہ 14 مارچ 1915ء صفحہ 2) (قسط نمبر 27، الفضل انٹر نیشنل 21 جنوری 2022ء صفحہ 11) 379