بنیادی مسائل کے جوابات — Page 262
تھے جیسے اب ہیں۔ٹھیک ہے ایسے جدید ذرائع میسر نہیں تھے لیکن اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ وہ اپنی صفائی کا خیال ہی نہیں رکھ سکتی تھیں اور ان کے حیض کے خون اِدھر اُدھر گرتے پڑتے تھے۔انسان نے ہر زمانہ میں اپنی ضروریات کے لئے بہتر سے بہتر انتظام حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔پس پہلے زمانہ میں بھی عورتیں اپنی صفائی ستھرائی کے لئے بہترین انتظام کیا کرتی تھیں۔پھر اس جدید دور کے ذرائع صفائی ستھرائی میں بھی بہر حال سقم موجود ہیں۔ایسی خواتین جن کو بہت زیادہ خون آتا ہے بعض اوقات ان کا پیڈ Leak کر جانے کی وجہ سے کپڑے خراب ہو جاتے ہیں۔پس اسلام کی جو تعلیمات دائگی اور ہر زمانہ کے لئے یکساں ہیں، ان پر ہر زمانہ میں اسی طرح عمل ہو گا جس طرح آنحضور الم کے زمانہ میں ہو تا تھا۔اگر کسی جگہ مجبوری ہے اور نماز کے کمرہ کے علاوہ اور کوئی جگہ نہیں تو اسی کمرہ کے آخر پر دروازہ کے قریب ایک ایسی جگہ مخصوص کی جا سکتی ہے جہاں نماز نہ پڑھی جائے اور ایسی عورتیں وہاں بیٹھ جایا کریں، یا مسجد کے آخر حصہ میں ایسی عورتوں کے لئے کرسیاں رکھ کر ان کے بیٹھنے کا انتظام کر دیا جائے، تاکہ نماز پڑھنے کی جگہ کے گندہ ہونے کا ہلکا سا بھی شبہ باقی نہ رہے۔جہاں تک غیر مسلم عورتوں کے مساجد کا وزٹ کرنے کی بات ہے تو اول تو وزٹ (Visit) کے دوران انہیں مساجد میں کہ بٹھایا نہیں جاتا بلکہ صرف مساجد کا وزٹ (Visit) کروایا جاتا ہے۔جس کا دورانیہ تقریباً اتنا ہی ہوتا ہے جتنا کہ مسجد سے چٹائی لانے یا بچھا کر آنے کا دورانیہ ہو تا ہے۔لیکن اگر کہیں انہیں مسجد میں بٹھانے کی ضرورت پڑے تو نیچے صفوں پر نماز پڑھنے کی جگہ بٹھانے کی بجائے مسجد کے آخر پر کرسیوں پر انہیں بٹھائیں۔(اس سوال کے جواب میں کہ ایام حیض والی خواتین کے عید کے موقعہ پر دعا میں شامل ہونے کے لئے حضور ایلم کی تاکید ہدایت کا جو اوپر ذکر ہوا ہے۔اس حوالہ سے خطبہ عید کے سننے کے بارہ میں ایک سوال کے جواب میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حدیث نبویہ الم کی روشنی میں جو جواب عطا فرمایا اسے بھی احباب کے استفادہ کے لئے یہاں درج کیا جا رہا ہے۔مرتب) حضور انور نے فرمایا: جہاں تک خطبہ عید کے سننے سے رخصت پر مبنی حدیث کا تعلق ہے تو یہ 262