بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 241 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 241

عروہ جبکہ نابینا ہو چکے تھے ، حافظہ کمزور ہو گیا تھا، ( جرح و تعدیل کے ماہرین کے مطابق) انہیں و ہم اور نسیان کے امراض لاحق ہو چکے تھے اس وقت جب وہ کو نہ چلے گئے تو وہاں انہوں نے پہلی مرتبہ یہ روایت بیان کی اور جس شخص سے روایت بیان کی اس نے بھی ان کی وفات کے بعد قریباً چالیس سال کا مزید انتظار کیا اور پھر اس روایت کو بیان کیا تا کہ کسی قسم کی تائید و تردید کا سوال ہی نہ اٹھ سکے۔پس مدینہ میں رہتے ہوئے ہشام کا یہ روایت بیان نہ کرنا اور ان کی وفات کے کئی سال بعد تالیف ہونے والی کتاب میں اس کا بیان اس روایت کے بارہ میں شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔یہ امکان ہے کہ خاندان اہل بیت اور خصوصاً حضرت عائشہ صدیقہ کے کردار کو نشانہ بنانے کی خاطر یہ روایت گھڑی گئی ہو۔تاکہ ثابت کیا جاسکے کہ وہ زوجہ مطہرہ جس کے بارہ میں حضور الم کا فرمان تھا کہ اس سے دین سیکھو، اس کی حضور ایل سے کم عمری میں شادی جبکہ وہ ابھی سہیلیوں اور گڑیوں سے کھیلتی تھی نیز ابھی وہ اپنے بچپن میں ہی تھی کہ حضور الم کی وفات ہو گئی، اس سے کیا دین سیکھا جا سکتا ہے؟ پھر صحیح بخاری جس میں یہ روایات بیان ہوئی ہیں، خود اس کے اندر حضرت عائشہ کے نکاح کے بارہ میں روایات میں تضاد پایا جاتا ہے۔چنانچہ ایک روایت میں حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ حضرت خدیجہ کی وفات کے تین سال بعد حضور ایم نے مجھ سے شادی کی۔جبکہ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت خدیجہ حضور ا کے مدینہ جانے سے تین سال پہلے فوت ہوئیں۔پھر حضور ام دو برس یا اس کے قریب قریب ٹھہرے اور پھر حضرت عائشہ سے نکاح کیا۔پس باوجود اس کے کہ احادیث جمع کرنے والوں نے نہایت احتیاط کے ساتھ اس کام کو سر انجام دیا ہے لیکن پھر بھی اس میں غلطی اور ظن کا پہلو بہر حال موجود ہے کیونکہ یہ کام حضور الم کی وفات کے قریباً ڈیڑھ دو سو سال بعد شروع ہوا جبکہ مسلمانوں کے کئی فرقے بن چکے تھے اور کئی قسم کے اختلافات ان میں پیدا ہو چکے تھے۔چنانچہ اس زمانہ کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیگر معاملات کی اصلاح کی طرح اس مسئلہ کا بھی نہایت احسن انداز میں حل فرمایا۔حضور فرماتے ہیں: گو ہم نظر تہذیب سے احادیث کو دیکھتے ہیں لیکن جو حدیث قرآن کریم 241