بنیادی مسائل کے جوابات — Page 219
حج اور عمرہ کے موقع پر صفا ومروہ کے درمیان سعی سوال: ایک دوست نے دریافت کیا ہے کہ صفا و مروہ کی سعی کے دوران جہاں ہم مرد دوڑتے ہیں، عورتیں کیوں نہیں دوڑ تیں حالانکہ حضرت ہاجرہ اس جگہ دوڑی تھیں۔اس کی کیا وجہ ہے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 22 نومبر 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: حج اور عمرہ کے موقعہ پر صفا و مروہ کے درمیان سعی جہاں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کی قربانی کی یاد میں کی جاتی ہے، وہاں کتب احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور الم نے عمرہ قضاء کے موقعہ پر کفار مکہ پر مسلمانوں کی قوت کے اظہار کے لئے اپنے صحابہ کو طواف بیت اللہ کے پہلے تین چکروں اور صفا و مروہ کی سعی کے دوران دوڑنے اور سینہ تان کر تیز چلنے کا ارشاد فرمایا تھا اور خود بھی یہی عمل فرمایا، کیونکہ کفار مکہ کا خیال تھا کہ مدینہ سے آنے والے مسلمانوں کو وہاں کے بخار نے بہت کمزور کر دیا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الحج) پس حضور ام کے اس ارشاد اور فعل کے تحت حج اور عمرہ کرنے والے مر دوں (جو اس کی طاقت رکھتے ہوں) کے لئے طواف بیت اللہ کے پہلے تین چکروں اور سعی بین الصفا والمروہ میں دوڑ نا سنت رسول اللہ تم ٹھہرا۔لیکن جو اس کی طاقت نہ رکھتے ہوں ان کے لئے دوڑ نا ضروری نہیں جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے (جبکہ وہ اپنی ضعیف العمری کی وجہ سے سعی میں دوڑنے کی بجائے چل رہے تھے ) کسی شخص کے اعتراض کرنے پر فرمایا کہ میں جو سعی کے دوران دوڑا ہوں تو میں نے حضور ا کو سعی کے دوران دوڑتے دیکھا ہے اور اب جبکہ میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں اور سعی کے دوران چل رہا ہوں تو میں نے حضور الم کو سعی کے دوران چلتے بھی دیکھا ہے۔(سنن ترمذي كتاب الحج) فقہاء کے نزدیک طواف بیت اللہ اور سعی کے دوران دوڑنا مر دوں کے لئے سنت ہے، عورتوں کے لئے نہیں۔کیونکہ عورتوں کے لئے ستر یعنی پردہ ضروری ہے جس کا حکم عورتوں کے دوڑنے سے قائم نہیں رہ سکتا۔219