بنیادی مسائل کے جوابات — Page 214
چور اور زانی کی سزا سوال: ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کہ “ قرآن کریم میں چور کے ہاتھ کاٹنے اور زانی کو رحم کرنے کا واضح حکم آیا ہے “ کے حوالہ سے تحریر کیا کہ قرآن کریم میں چور کے ہاتھ کاٹنے کا تو ذکر موجود ہے لیکن زانی کو رجم کرنے کا کسی آیت میں ذکر نہیں ؟ اس بارہ میں رہنمائی کی درخواست ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 15 اکتوبر 2018ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: اسلامی سزاؤں کے عموماً دو پہلو ہیں ایک انتہائی سزا اور ایک نسبتا کم سزا۔اور ان سزاؤں کا بنیادی مقصد بُرائی کی روک تھام اور دوسروں کے لئے عبرت کا سامان کرنا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضور الم اور خلفائے راشدین کے عہد مبارک میں ہر قسم کے چور کو ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی گئی مثلاً کھانے پینے کی اشیاء کی چوری پر کبھی ہاتھ نہیں کاٹا گیا۔لیکن اگر کوئی چور کسی عورت کا زیور چھینتے ہوئے اس کے ہاتھ کان زخمی کر دیتا ہے یا اس کے کسی Organ کو ایسا نقصان پہنچا دیتا ہے کہ وہ کسی معذوری کا شکار ہو جاتی ہے تو ایسے چور کو پھر اس کے جرم کے مطابق سزا دی جاتی ہے جس میں ہاتھ کاٹنے کی بھی سزا شامل ہے۔اسی طرح جو زنا باہمی رضامندی سے ہوا ہو اگر وہ اسلامی طریقہ شہادت کے ساتھ ثابت ہو جائے تو فریقین کو سو کوڑوں کی سزا کا حکم ہے۔لیکن جس زنا میں زبر دستی کی جائے اور اس میں نہایت وحشیانہ مظالم کا جذبہ پایا جاتا ہو۔یا کوئی زانی چھوٹے بچوں کو اپنے ظلموں کا نشانہ بناتے ہوئے اس گھناؤنی حرکت کا مرتکب ہوا ہو تو ایسے زانی کی سزا صرف سو کوڑے تو نہیں ہو سکتی۔ایسے زانی کو پھر قرآن کریم کی سورۃ المائدہ آیت 34 اور سورۃ الاحزاب کی آیت 61 تا 63 میں بیان تعلیم کی رو سے قتل اور سنگساری جیسی انتہائی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔لیکن اس سزا کا فیصلہ کرنے کا اختیار حکومت وقت کو دیا گیا ہے اور اس تعلیم کے ذریعہ عمومی طور پر حکومت وقت کے لئے ایک راستہ کھول دیا گیا۔214