بنیادی مسائل کے جوابات — Page 162
سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ طارق میگزین “ میں شائع ہونے والے ایک انٹریو میں جنوں کا ذکر کیا گیا ہے جس میں انٹرویو دینے والے نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کا بظاہر یہ موقف بیان کیا ہے کہ جنات کا وجود موجود ہے، جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے موقف کے برعکس ہے۔اس پر مخالفین اعتراض کرتے ہیں۔اس کا کیا جواب دیا جا سکتا ہے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 18 مارچ 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: قرآن کریم اور حدیث میں جن کا لفظ کثرت کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔جس کے معنی مخفی رہنے والی چیز کے ہیں۔جو خواہ اپنی بناوٹ کی وجہ سے مخفی ہو یا اپنی عادات کے طور پر مخفی ہو۔اور یہ لفظ مختلف صیغوں اور مشتقات میں منتقل ہو کر بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور ان سب معنوں میں مخفی اور پس پردہ رہنے کا مفہوم مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔چنانچہ جن والے مادہ سے بننے والے مختلف الفاظ مثلاً جن سایہ کرنے اور اندھیرے کا پردہ ڈالنے ، جنین ماں کے پیٹ میں مخفی بچہ ، جنون وہ مرض جو عقل کو ڈھانک دے، جنان سینہ کے اندر چھپا دل، جنت باغ جس کے درختوں کے گھنے سائے زمین کو ڈھانپ دیں، مجنہ ڈھال جس کے پیچھے لڑنے والا اپنے آپ کو چھپالے، جان سانپ جو زمین میں چھپ کر رہتا ہو ، بجنن قبر جو مردے کو اپنے اندر چھپالے اور جبہ اوڑھنی جو سر اور بدن کو ڈھانپ لے کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔پھر جن کا لفظ با پردہ عورتوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔نیز ایسے بڑے بڑے رؤسا اور اکابر لوگوں کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو عوام الناس سے اختلاط نہیں رکھتے۔نیز ایسی قوموں کے لوگوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو جغرافیائی اعتبار سے دُور دراز کے علاقوں میں رہتے اور دنیا کے دوسرے حصوں سے کٹے ہوئے ہیں۔اسی طرح تاریکی میں رہنے والے جانوروں اور بہت باریک کیڑوں مکوڑوں اور جراثیم کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔اسی لئے حضور ا نے رات کو اپنے کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھنے کا ارشاد فرمایا اور ہڈیوں سے استنجا سے منع فرمایا اور اسے جنوں یعنی چیونٹیوں، 162