بنیادی مسائل کے جوابات — Page 160
جن سوال: ایک خطبہ جمعہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بیان فرمودہ ایک واقعہ کہ آنحضور الم نے حضرت قتادہ بن نعمان کو ایک چھڑی عطا فرما کر ارشاد فرمایا تھا کہ اس سے اپنے گھر میں موجود جن کو مار کر بھگا دینا“ کے بارہ میں ایک خاتون نے حضور انور کی خدمت اقدس میں اس واقعہ کی مزید وضاحت کی درخواست کی۔جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 29 اگست 2019ء میں اس واقعہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: حضور علم کی یہ حدیث اور ایسی دوسری احادیث جن میں حضور علم یا آپ کے صحابہ کے لئے روشنی کے نمودار ہونے کے واقعات کا ذکر ہے، دراصل حضور الم کے معجزات پر مشتمل ہیں۔اور اس قسم کے معجزات اللہ تعالیٰ ہر زمانہ میں اپنے انبیاء کی صداقت کے لئے دکھاتا رہا ہے۔چنانچہ آنحضور لام سے پہلے کے انبیاء کی زندگیوں میں بھی ایسے واقعات ملتے ہیں اور حضور ام کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے کئی واقعات کو ظاہر فرمایا۔جہاں تک اس حدیث میں جن یا شیطان کو چھڑی سے مارنے کا تعلق ہے تو اس سے یہ استدلال کرنا کہ جن انسانوں کے جسم میں گھس جاتے ہیں اور انہیں اس طرح مارنے سے انسانوں کے جسموں سے نکلا جا سکتا ہے، بالکل لغو بات ہے۔اس حدیث میں جن سے مراد کوئی چور یا نقصان پہنچانے والا کوئی جانور مراد ہے جو رات کے اند ھیرے کا فائدہ اٹھا کر حضرت قتادہ بن نعمان کے گھر گھس گیا تھا۔اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے انبیاء کو غیر معمولی طور پر علم غیب سے نوازتا ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے حضور ا کو پہلے سے خبر دیدی تھی کہ حضرت قتادہ بن نعمان کے گھر کوئی چور یا نقصان دینے والا جانور چھپا ہوا ہے ، اس لئے حضور ا لم نے حضرت قتادہ بن نعمان کو اس خطرہ سے آگاہ فرماتے ہوئے انہیں نصیحت کی کہ جب وہ گھر پہنچیں تو اس چھڑی کے ساتھ اس چور یا اس جانور کو مار کر بھگا دیں۔چنانچہ بعض دوسری کتب میں اس واقعہ کی تشریح میں یہ بات بھی بیان ہوئی 160