بنیادی مسائل کے جوابات — Page 113
تعدد ازدواج سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ اس کے خاوند نے جماعت سے اخراج کے بعد اسے طلاق دیئے بغیر دوسرا نکاح کر لیا ہے، جبکہ قانوناً وہ دوسری شادی کا حق نہیں رکھتے اس لئے زنا کر رہے ہیں۔اسلام کی رُو سے مجھے اس نکاح کی کوئی اہمیت سمجھ نہیں آئی۔اس لئے اس نکاح کو منسوخ کیا جائے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 16 جنوری 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: یہ بات ٹھیک ہے کہ اکثر مغربی ممالک میں ایک بیوی کے ہوتے ہوئے قانونی اعتبار سے دوسری شادی منع ہے لیکن اسلام نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے۔اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ جا کر جہاں دوسری شادی کی ممانعت نہیں با قاعدہ نکاح کے ذریعہ دوسری شادی کر بھی لیتا ہے تو ان مغربی ممالک میں اس کی اس دوسری بیوی کو کسی قسم کے قانونی حقوق نہیں ملتے لیکن شر عاوہ اس کی بیوی ہی مانی جائے گی اور اس کے ساتھ اس کے جسمانی تعلقات زنا شمار نہیں ہوتے۔آپ کے خاوند اگر اس عورت سے بغیر نکاح کے تعلقات رکھتے ، جو کہ شرعاً حرام ہے لیکن ان مغربی ممالک کے قوانین میں اس کی گنجائش نکل آتی ہے تو کیا یہ بات آپ کو خوش کرتی؟ اسلام نے جس طرح مرد کے لئے اس کی ضرورت کے مطابق حقوق بیان کئے ہیں اسی طرح عورت کے لئے بھی اس نے مختلف حقوق قائم فرمائے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلامی تعلیم کا یہ پہلو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ مسئلہ اسلام میں شائع متعارف ہے کہ چار تک بیویاں کرنا جائز ہے۔مگر جبر کسی پر نہیں اور ہر ایک مرد اور عورت کو اس مسئلہ کی بخوبی خبر ہے تو یہ ان عورتوں کا حق ہے کہ جب کسی مسلمان سے نکاح کرنا چاہیں تو اول شرط کرالیں کہ ان کا خاوند کسی حالت میں دوسری بیوی نہیں کرے گا اور اگر نکاح سے پہلے ایسی شرط لکھی جائے تو بیشک ایسی بیوی کا خاوند اگر دوسری بیوی کرے تو مجرم نقض عہد کا مر تکب 113