بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 45

استعمال کر کے نقصان اٹھائے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔چنانچہ میڈیکل سائنس سے ثابت ہے کہ ماں باپ کی بعض کمزوریوں کا ان کی اولاد پر اثر پڑتا ہے۔حمل میں اگر پوری طرح احتیاط نہ برتی جائے تو بعض اوقات اس کا پیدا ہونے والے بچہ کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے ، جو مائیں ڈائٹنگ کرتی ہیں ان کے بچے بعض اوقات کمزور پیدا ہوتے ہیں، جن بچیوں کو بچپن میں مٹی چاٹنے کی عادت ہو بعض اوقات ان کی اولاد معذور پیدا ہوتی ہے۔پس تکالیف خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ نہیں ہیں بلکہ اس قانون قدرت کے غلط استعمال یا اس میں کمی بیشی کرنے کے سبب سے ہیں جو انسانوں کے فائدہ کے لئے بنایا گیا تھا۔البتہ اللہ تعالیٰ انسان کی بہت سی غلطیوں سے در گزر فرماتے ہوئے اسے ان کے بد نتائج سے بچاتا رہتا ہے۔اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اور تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس سبب سے ہے جو تمہارے اپنے ہاتھوں نے کمایا۔جبکہ وہ بہت سی باتوں سے در گزر کرتا ہے۔(سورة الشوري :31) پھر خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون قدرت میں ایک بات یہ بھی شامل ہے کہ ہر چیز دوسرے سے اثر قبول کرتی ہے۔اسی قانون کے تحت بچے اپنے والدین سے جہاں اچھی باتیں قبول کرتے ہیں وہاں بُری باتیں بھی قبول کرتے ہیں، صحت بھی ان سے لیتے ہیں اور بیماری بھی ان سے لیتے ہیں۔اگر بیماریاں یا تکالیف ان کو ماں باپ سے ورثہ میں نہ ملتیں تو اچھی باتیں بھی نہ ملتیں۔اور اگر ایسا ہوتا تو انسان ایک پتھر کا وجود ہوتا جو بُرے بھلے کسی اثر کو قبول نہ کرتا اور اس طرح انسانی پیدائش کی غرض باطل ہو جاتی اور انسان کی زندگی جانوروں سے بھی بد تر ہو جاتی۔چوتھی بات یہ ہے کہ دنیوی زندگی در اصل عارضی زندگی ہے اور اس کی تکالیف بھی عارضی ہیں۔اور جن لوگوں کو اس عارضی زندگی میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں ایسے شخص کی اُخروی زندگی جو دراصل دائمی زندگی ہے، کی تکالیف دور فرما دیتا ہے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک مومن کو اس دنیا میں رستہ چلتے ہوئے جو کانٹا بھی چبھتا ہے اس کے بدلے میں بھی اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں اجر لکھتا ہے یا اس کی خطائیں معاف کر دیتا ہے۔اس دنیوی زندگی کے مصائب میں اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کو سب سے زیادہ ڈالتا ہے۔اسی لئے 45