بُخارِ دل — Page 281
281 1 2 3 4 6 میرے اشعار میں دُعا ہائے مستجاب دعا فرمائیے، لائے خدا جلد اس کو درمیان قادیاں حق بھی مٹتا ہے تعدّی سے کہیں اے ظالم خود ہی مٹ جائے گا تو دست وگر یہاں ہو کر مال اور املاک وقف دیں ہوئے 1 شوق جاه و مال زائل ہو گیا تے مرا نام ابا نے رکھا ہے مریم خدایا! تو صدیقہ مجھ کو بنا دے 5 ع وصیت کے ادا ہونے میں یارب ! کچھ نہ ہو وقتی ،مریم امولا، طیبه بشری، نصیره، سیده اتنے نفر درکار ہیں 1 حضرت میر صاحب 1936ء میں ریٹائر ہونے کے بعد مستقل طور پر قادیان میں مقیم ہو گئے۔2 امان اللہ خان امیر کا بل نہایت گمنامی کی حالت میں اٹلی میں مر گیا۔3 حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی تحریک وقف مال و املاک پر حضرت میر صاحب نے بڑی خوشی سے لبیک کہا۔4 حضرت مریم صدیقہ ( ام متین ) حرم محترم کے متعلق پورا ہوا۔کے اپنی زندگی میں ہی حصہ وصیت ادا کر دیا تھا۔