بُخارِ دل

by Other Authors

Page 277 of 305

بُخارِ دل — Page 277

277 (199) 1945ء میں کپڑا نہایت نایاب اور مہنگا ہو گیا۔اس موقع پر میر صاحب نے یہ شعر کہے۔ساعت کسے معلوم ہے اپنی اجل کی جان من کپڑے کی تنگی ہے بہت ، بنوا کے رکھا اپنا کفن ایسا نہ ہو، بر وقت وہ بڑ از جو بدذات ہیں لٹھے کے کوٹے میں کریں چوری ، تغلب یا غبن اس لئے حضرت میر صاحب نے اپنا کفن پہلے بنوا کے رکھ لیا تھا (محمد اسمعیل) (200) قلمی آم کا اسمعیل پڈنگ لنگڑا نچوڑ کر تم ، بالائی اُس میں ڈالو کچھ کیوڑہ چھڑک کر ، قدرے شکر ملا لو آخر میں برف سے پھر ٹھنڈا کرو پیالہ اللہ کا نام لے کر ، چمچے سے اُس کو کھا لو (201) شاعر بنے ، عاشق بنے ، واعظ بنے ، عالم بنے پاپڑ سب ہی بیلے، مگر کندن نہ پھر بھی بن سکے آخر میں دروازے پہ تیرے آ پڑے صورت سوال فضلوں سے خا کی تا کہ بیناری سے نوری بن سکے (202) بال ہوتے گئے سفید مرے قلب ہوتا گیا سیہ میرا الٹی گنگا لگی یہ کیوں بہنے؟ حال کیوں ہو گیا تبہ میرا؟ (203) رضائے الہی خوشنودی عارضی پر مولا کی تم کرنا نہ کہیں غرور سے رستہ گم کیا فائدہ ٹمپریری ویلڈن کا ہے درجہ ہے رضا کا اِعْمَلُو مَا شِئْتُم Temporary Weldon 1