بُخارِ دل — Page 276
276 (195) حَسَبٌ مال و دولت آدمی کا ہے حسب سیم و زر ہے قوم اُس کی اور نسب دین وعلم وخُلق سب بے کار ہیں رزق ہے دنیا میں عزت کا سبب (196) تقدیر معلق و مبرم تدبیر سے وابستہ ہو تقدیر جو کوئی تقدیر معلق اُسے کہتے ہیں خرد مند لیکن جو قضا ٹل ہی نہ سکتی ہو کبھی بھی مبرم ہے وہ تقدیر کہ رستے ہیں سب ہی بند (197) یورپ میں اک صلح ہوئی اور وہ بھی حق کیسی عجیب طرح ہوئی! اور وہ بھی حق لیکن دراصل مصلح موعود کے طفیل ”ہندوستاں کی فتح ہوئی، اور وہ بھی حق“ 2 جون 1945ء کو دن کے دس بجے میں آرام کرسی پر بیٹھا ہوا اُونگھ رہا تھا ، کہ میرے سامنے لیتھو کے پریس کی کاپی کا ایک صفحہ آیا۔اس میں سب سے اوپر یہ مصرع لکھا تھا کہ ”ہندوستاں کی فتح ہوئی اور وہ بھی حق حق کا لفظ بہت موٹا لکھا تھا۔ہندوستان میں جو آج کل نہایت کثرت کے ساتھ سیاسی گفتگوئیں ہو رہی ہیں بظاہر یہ تحریر انہی کے متعلق معلوم ہوتی ہے۔واللہ اعلم ( محمد اسمعیل 30 جولائی 1945ء) ( یہ پیشگوئی جو 1945ء میں کی گئی تھی 1947ء میں نہایت صفائی کے ساتھ پوری ہوگئی جب کہ ہندوستان کو آزادی کی فتح نصیب ہوئی اور حقدار کو اُس کا حق مل گیا۔محمد اسمعیل پانی پتی) (198) التجا آغوش مادری میں مجھ کو جو تو لٹا دے قدموں میں میری جان کے مجھ کو سلا دے اے مقبرہ کے والی، دوں گا تجھے دُعا یہ پہلو میں اک نبی کے تجھ کو بھی جا خدا دے