بُخارِ دل — Page 275
275 (189) کانگریس کے نمائشی ممبر چار آنے کانگرس کے ٹکٹ کے کیسے ادا کھدر کی گاندھی کیپ کو سر پر لیا چڑھا ہندوستاں سے نکلو کا پھر نعرہ مار کر میں بھی لہو لگا کے شہیدوں میں مل گیا (190) آج دنیا کو میں نے دے دی طلاق سب حساب اُس کا کر دیا بے باق اب نہ مانگوں گا اُس سے میں کچھ بھی مل گیا ہے مجھے میرا رزاق نہ (191) آج دے دی میں نے دُنیا کو طلاق عشق سب جاتا رہا اور اشتیاق اس قدر نفرت مجھے اس سے ہوئی کر دیا اولاد کو بھی اُس کی عاق (192) خ فانی مثل حیواں ہے پلید عقل گم اور علم ہے سب ناپدید اس سے بدتر شیخ زانی سے مگر کھیلتا ہے لڑکیوں سے وہ پلید (193) شیخ فانی گرچہ اک حیوان ہے پر وہ حیواں ہو کے بھی انسان ہے شیخ زانی، شیخ فانی سے بُرا ہو کے انساں پھر بھی وہ شیطان ہے (194) حکومت شریروں کی رہتی نہیں یہ دنیا تعدی کو سہتی نہیں وہ ہٹلر، وہ ڈوچے، وہ ٹوچو کہاں سیدا ناؤ کاغذ کی بہتی نہیں