بُخارِ دل — Page 223
223 3 مردم پشم جو ہلتی ہے ادھر اور اُدھر ناوک صید جگر ہے یہ ادائے کھجیار سرو آزاد ہوئے عشق میں اس کے پابند منہ سے خاموش ہیں پر سر میں ہوائے کھجیار واں تو وہ قحط رسڈ اور یہاں یہ افراط شاہ چنبہ سے تو بہتر ہے گدائے کھجیار شوخیاں وصل کی شب کی نہیں بھولیں اب تک یاد ہیں ہم کو وہ سب کو رو جفائے کھجیار ہم نے پہلے بھی دیا کو چہ میں اس کے پہرا آج پھر قید کردیا ہے سرائے کھیار چلبہ و کف گئے، ٹوپ بھی دیکھا کالا پر نہ پائے کہیں، یہ ناز و ادائے کھجیار زندگی اس کی بھی کیا خاک ہے اس دنیا میں جو کہ ہوتے ہوئے وسعت کے نہ آئے کھیار جس کی مخلوق میں یہ حسن و دلآویزی ہو کس قدر خود وہ حسیں ہو گا خدائے کھجیار (الفضل 3 جون 1943ء) 1 مردم چشم یعنی وہ چھوٹا سا جزیرہ جو جھیل میں تیرتا پھر رہا ہے۔2 دیودار کے اُونچے اُونچے درخت جو میدان کے چاروں طرف کھڑے ہیں۔3 اس زمانہ سخت قحط پڑا ہوا تھا چنبہ میں روپیہ کا تین سیر آتا ملتا تھا اور وہ بھی مکئی کا۔اور بنتا بھی مشکل سے تھا۔مگر کھجیار میں گیہوں کا آٹا حسب ضرورت مل گیا اور ہم نے خدا کا شکر ادا کیا۔4 یہ نظم چنبہ سے واپسی پر جب دوبارہ کھجیار میں ٹھہرے اُس وقت لکھی گئی تھی۔5 جب ہم ڈاک بنگلے میں جا کر ٹھہرے تو لوگوں نے کہا کہ ” یہاں رات کو کچھ نکلتا ہے ہوشیار سوئیں ہم حضرت صاحب کی حفاظت کے لئے باری باری ساری رات بندوق ہاتھ میں لئے پہرا دیتے رہے اور آگ روشن رکھی۔اس شعر میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔کے ایک مرتبہ یہاں ہم چنبہ جاتے ہوئے ٹھہرے تھے۔دوسری مرتبہ آتے ہوئے قیام کیا۔7 سرائے کھجیا ر ڈاک بنگلہ