بُخارِ دل

by Other Authors

Page 222 of 305

بُخارِ دل — Page 222

222 هجيار کھیار ڈلہوزی سے چند میل کے فاصلہ پر ریاست چنبہ میں ایک نہایت ہی پُر فضا میدان کا نام ہے جس کے چاروں طرف پہاڑ ہیں اور اُس پر دیودار کے درخت آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔میدان کے بیچ میں ایک چھوٹی سے جھیل بنی ہوئی ہے جس میں ایک چھوٹا سا جزیرہ تیرتا پھر رہا ہے۔میدان کے کنارے پر دو تین ڈاک بنگلے مسافروں کے قیام کے لئے بنے ہوئے ہیں۔ایک مندر اور ایک دُکان بھی ہے۔کھجیار کا منظر ا تناولفریب،خوشنما اور دل لبھانے والا ہے کہ اُس کی تصویر قلم سے نہیں کھینچی جاسکتی۔انسان دیکھ کر ہی اُس کا پورا لطف اُٹھا سکتا ہے۔اسی قدرتی منظر سے متاثر ہو کر یہ نظم لکھی گئی ہے۔نظم کا چوتھا شعر ایک دلچسپ قصہ سے متعلق ہے جو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ قدیم زمانہ میں ایک جوگی کھجیار میں آکر جھیل کے کنارے بیٹھا۔یہ معلوم کرنے کے لئے کہ جھیل کتنی گہری ہے اُس نے رستی بٹ بٹ کر پانی میں ڈالنی شروع کی۔بارہ برس تک وہ رسی بٹ بٹ کر جھیل میں ڈالتا رہا۔مگر اُس کا تھاہ نہ ملی۔آخر جوگی نے یہ کہہ کر واہ بے انت، جھیل میں چھلانگ لگائی اور اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالا۔بس گیا دل میں میرے ماہ لقائے کھجیار سامنے پھرتی ہے آنکھوں کے فضائے کھجیار وادی عشق کے افسر وہ دلوں سے کہہ دو روح پرور ہے عجب آب و ہوائے کبھیار آزمائیں جو کبھی اس کو اطبائے زماں سب دوا چھوڑ دیں جز خاک شفائے کھجیار حُسنِ بے آنت میں کیا جانے کشش کیسی تھی جوگی جی“ ہو گئے تن من سے فدائے کھجیار گوشئہ چشم میں عاشق کو جگہ دی اس نے سیکھ لے بزم حسیناں! یہ وفائے کھجیار