بُخارِ دل — Page 210
210 کھوٹے معاملات قرض لے کر کیوں تو بنتا ہے یہود کیوں تجھے اُن کا چکن اچھا لگا؟ قسط ہو، یا نفع ہو، یا وعدہ ہو جس نے جو چاہا، وہ تُو نے لکھ دیا نام دینے کا مگر لیتا نہیں لے کے قرضہ، جیسے کوئی مر گیا وقت لینے کے مسلماں دیندار وقت دینے کے یہودی بن گیا خود بخود کرنا ادا گویا حرام إلا مَادُمُتَ عَلَيْهِ قَائِمَا إِلَّا عہد سارے فسخ ہوتے ہیں معا جب ادا کرنے کا وعدہ آ گیا کیا یہی ہے حکم اَوْفُوا بِالْعُقُود کیا یہی تعلیم فرقاں ہے تنگ کیوں کرتا ہے تو مخلوق کو تو مخلوق کو کچھ تو آخر چاہئے خوفِ خدا قادیان کے آریہ نہ کی تصدیق تم نے ، گونشانوں پر نشاں دیکھے نہ لوگوں کو ہدایت دی نہ خود ایمان ہی لائے رہے حق کو چھپاتے قادیاں کے یہ مہاشے جب تو پھر مجبور ہو کر اُن کو قسمیں دی مسیحا نے ملا وامن وغیرہ شرم پت چُپ رہ گئے سارے ہوئیں فق رنگتیں اُن کی رہے خاموش پھر ایسے خموشی معنی دارد که در گفتن نمی آید بھلا؟ (1943)