بُخارِ دل — Page 183
183 دیباچه را وسلوک جو مانتا خدا کو نہ ہو اُس کو اے عزیز! عقلی دلیلیں ہستی باری کی دے سُنا اتنا وہ مان لے گا دلائل سے بالضرور عالم کے کارخانہ کا اک چاہئے خدا اگلا قدم یہ ہے کہ ہو ایمان بھی نصیب اس کے لئے کلام خدا کی مدد بُلا قرآں کی روشنی میں نظر آئے گا اُسے موجود ہے وہ ذات جو ہے سب کا مبتدا مخلوق بن گئی ہے وہ کہتا ہے خود بخود بے مثل جو کلام ہے۔وہ کیونکر خود بنا انسان غیب دانی سے عاری ہے گر، تو پھر۔صدیوں کے غیب کا اُسے کیونکر بیتہ لگا؟ تازه نشان حضرت مہدی کے پیش کر مومن کو معرفت کی ذرا چاشنی سارا جہاں ہو جس کا مُخالف وہ کس طرح؟ غالب ہر ایک جنگ میں ہوتا ہے بَرملا