بُخارِ دل — Page 167
167 الله - الله یہ نظم ایک عزیز دوست کا خط آنے پر لکھی گئی تھی۔انہوں نے خواب میں ایک تحریر دیکھی جس کا آخری فقرہ یہ تھا ”یسر ہے فالحَمدُ لِله باقی تحریر ان کے ذہن سے محو ہو گئی تھی۔میں نے اپنے اندازہ سے اُس کی تکمیل کر دی۔الله الله، ربنا الله ڈال دِل میں خشیتہ اللہ نفس ہو یہ فانی فی اللہ روح ہو یہ باقی باللہ یا الہی! کسی اللہ فضل سے دے بجٹ اللہ ہے امید رحمت اللہ مانگتا ہوں نعمت اللہ میرے پیارے، میرے اللہ ٹھیک کر دے فطرت اللہ دل ہے پڑھتا قُلْ هُوَ الله شرک سے اعوذ بالله تو ہے خالق سب کا واللہ ثُمَّ بالله قسم بالله ربی اللہ ربی الله ! مومنوں سے حُبّ في الله دین ہو، الدِّينُ لِلَّه ! ابتلا صبر لله متقی کو بارک اللہ تنا الله ، حسبنا الله زندگی ہو سیر فی اللہ یہ بھی ہے اک سُنہ اللہ