بُخارِ دل — Page 165
165 کچھ ایسے فضل ہوں ہم پر کہ اب تلک ایسی نہ ہو کسی کے بھی خواب و خیال میں برکت صفائے ظاہر و باطن حکومت و حکمت اگر ہو قال میں عظمت تو حال میں برکت عمل میں خلق میں خُلق و خصال میں قوت بنین و اہل و نساء و رجال میں برکت سلام وفضل وصلوۃ و فلاح و غفراں کی شبانہ روز ہو ہر ماہ و سال میں برکت چلا چلے یہ قیامت تلک تیرا جلوہ ہر ایک حال میں رحمت مال میں برکت الہی! شجرة احمد بڑھے، پھلے پھولے ہو پتا پتا میں اور ڈال ڈال میں برکت بحق آل محمد طفیل آل مسیح خدایا! بخش ہماری بھی آل میں برکت آمین (الفضل 16 مئی 1943ء)