بُخارِ دل

by Other Authors

Page 161 of 305

بُخارِ دل — Page 161

161 وصیت کے ادا ہونے میں یارب کچھ نہ ہو دِقت نہ بعد جاں سپر دن ہو جنازے کی میرے خواری بہشتی مقبرے میں دفن ہونے کی اجازت ہو سرا پا گرچہ مجرم ہوں دکھا دے اپنی غفاری سہولت اپنے بندوں کو تو ہی دیتا ہے اے مولیٰ جب ہی تو ہم یہ کہتے ہیں ”خدا داری چہ غم داری تڑپتی روح ہے میری کہ جلدی ہو نصیب اپنے ملاقات شہ خوباں لقائے حضرت باری کھینچا جاتا ہے دل میرا بسوئے کوچہ جاناں سُرود عاشقاں سُن کر بھڑک اُٹھی ہے چنگاری یہ نغمہ ہے بزرگوں کا خدا دارم چه غم دارم فرشتے بھی یہ گاتے ہیں ” خداداری چه غم داری الہی! عاقبت نیک و جوارِ حضرتِ احمد شہ یثرب کی مہمانی - جوئے کوثر کی میخواری خدا جن کے صنم ہیں وہ بھی یاں پھرتے ہیں اتراتے تو پھر جن کے خدا تم ہوا نہیں ہو کس لئے خواری بنوشم سنگ پارس، کیمیا، ظل ہما جس کے کے وہ کیا سوا اس کے ”خدا داری چه غم داری" (الفضل 19اپریل 1943ء)