بُخارِ دل

by Other Authors

Page 160 of 305

بُخارِ دل — Page 160

160 بیاہنا بیٹیوں کو اذن سے حضرت خلیفہ کے تمہاری دختریں چاروں ابھی چھوٹی ہیں جو کواری مقدم دین ہو سب سے شرافت ، علم و دانش پھر مؤخر ہو تجارت، نوکری، ٹھیکہ، زمینداری سپر د اللہ کے میں نے کیا سب کو بصد رقت یقیں اس بات پر رکھ کر ”خدا داری چه غم داری“ نصیحت گوش گن جاناں کہ فانی ہے یہ سب عائم بنو عقھی کی تم طالب ، رہے دنیا سے بیزاری حضوری گرہمی خواهی از وغافل مشو ہرگز خدا دل میں تمہارے ہو ہمیشہ اے مری پیاری سخن کز دل بروں آید نشیند لا جرم بر دل تو دل سے یہی نکلے ”خدا داری چه غم داری“ جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے بس کمر کس لو اُٹھاؤ دل کو لو رخصت کرو چلنے کی تیاری الہی روشنی ہو قبر میں سایہ ہو محشر میں ٹکے دوزخ ملے جنت بنیں نوری نہ ہوں ناری بشارت یہ خداوندی مجھے بھی ہو تمہیں بھی ہو خداداری چه غم داری خداداری چه غم داری