بُخارِ دل — Page 159
159 دعائیں میرے بچوں کے لئے معمول کر لینا پناہ میں بس خدا کی ہو بسر یہ زندگی ساری نمازوں میں نہ ہو غفلت یہی تاکید تم رکھنا کہ یہ ہے بندگی نیچی یہی ہے اصل دیں داری جو بندہ اُس کا بن جائے وہ گھاٹے میں نہیں رہتا ملائک تک بھی کہتے ہیں "خداداری چه غم داری" بنا دے سادہ دِل مومن بلند اخلاق تُو اُن کو الہی تیری ستاری خدایا تیری غفاری ہمی خواهد نگار من تهیدستان عشرت را نمی خواهد از یارانش، تن آسانی دل آزاری دُعا کو ہاتھ اُٹھاتا ہوں تو کہتا ہے کوئی فوراً میں زندہ ہوں میں قادر ہوں ، مرا داری چہ غم داری خداوندا! بچانا تو مرے پیاروں کو ان سب سے زیاں کاری و ناداری و بیکاری و لاچاری کرم سے ڈال دے اُن کی طبعیت میں ہراک نیکی نکو کاری و غم خواری و بیداری و دین داری کبھی ضائع نہیں کرتا تو اپنے نیک بندوں کو جب ہی تو سب یہ کہتے ہیں " خداداری چه غم داری