بُخارِ دل — Page 131
131 إنَّ اللَّهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمُ بأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّة قتل کیوں کرتے ہوڈ ز دیدہ نگاہوں سے مجھے حکم فرماؤ تو سرکاٹ کے رکھ دوں اپنا یا اجازت ہو تو خود اپنے ہی سینہ سے نکال دل ہی قدموں میں تمہارے جو گرا دوں اپنا لطف آ جائے ، اگر اس جیب کو خالی کر کے مال سرکار کے سر پر سے لٹا دوں اپنا عاجزانہ دُعا اے خدا، اے میرے رب، رب الوری میں ہوں بیکار اور تو ہے کبریا ظاہری حرفوں میں ہے گو اشتراک فرق ہے معنوں میں پر بے انتہا رہنا! کرتا ہوں مجھ سے ہی دُعا مُشترک ہونے کی عزت کو نبھا بیچا اپنے گھر جنت میں کر مجھ کو شریک اور جدائی کے جہنم گرچہ ہوں بیکار پر کر دے مجھے جیسے قالُوا کا الف موسیٰ کی ہے ہو بہشتی مقبرہ میں میری قبر قُرب پاؤں مہدی موعود کا ربنا رحمت طفیل از ނ حضرت بیڑا پار کر خیر الورى (الفضل 16 فروری 1943ء) 1 چند روز ہوئے میں سو رہا تھا کہ یکدم نیم خوابی اور نیم بیداری کی سی حالت طاری ہو