بُخارِ دل — Page 125
125 ہمارا آفتاب (26 مئی 1908 کی یاد میں ) اس نظم میں قرآن مجید کی ایک آیت حتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَــاب (ص:33) بار بار آتی ہے، اس کے معنی ہیں ” یہاں تک کہ وہ (سورج ) چھپ گیا۔“ یہاں ہر بند میں یہ آیت حضرت مسیح موعود کے لئے استعمال کی گئی ہے۔سوائے نمبر 7 اور نمبر 9 والے بند کے۔جہاں یہ نفس اور دُنیا کے لئے ہے۔آفتاب ( شمس ) اور نفس اور دنیا تینوں عربی زبان میں مؤنث استعمال ہوتے ہیں۔افسوس! میرا آفتاب، وہ مہدی والا خطاب روشن کیا جس نے جہاں، باصد ہزاراں آب و تاب ہم عشق میں سمجھا گئے ، یا پڑ گئے دل پر حجاب زندہ رہے گا تا ابد، چمکے گا تا یوم انحساب دھوکا رہا آخر تلک - حتی توارث بالحجاب محسن وہ میرا آفتاب وہ عیسی عالی جناب ہر دم قلم اُس کا رہا مصروف تصنیف کتاب تجدید کی اسلام کی بتلا دیا جو تھا خراب عیسائی برہمو آریہ سب اُس کے آگے لاجواب - لڑتا رہا وہ پکولکھا۔حتی توازت بانتخاب