بُخارِ دل — Page 252
252 (70) لوگوں کی غلطی مسیحا تھے یہیں دار النعمان لے میں تلاش اُن کی تھی پر بُرج حمل سے میں میشن آتی ہے تم پر بھی یہ صادق ڈھنڈورا شہر میں لڑکا بغل میں“ (71) برآید در جہاں کارے زکارے میاں مسکیں کے ہاں پڑتے تھے فاقے کہ آ پکڑا محلے کو وبا نے میاں کا بھر گیا صدقوں سے کوٹھا کسی کا گھر جلے اور کوئی تاپے (72) اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رَسَالَتَهُ حسد سے نہ بن تو مسیحا کا دُشمن دلائل کو دیکھ اور نشانات روشن نہ کر سوکنوں کی طرح عیب چینی پیا جس کو چاہے وہی ہے سُہا گن“ وو (73) ذکر الہی اور اصلاح نفس رکھ زباں کو ذکر سے مولا کے تر تا زباں سے رُوح تک پہنچے اثر دل بھی سیدھا کر کہیں ایسا نہ ہو ”بر زباں تسبیح و در دل گاوخر (74) تعاون باہمی جسے گھسجلاتے ہیں آپس میں گدھے اک ایک کو یونہی دُنیا بھی تعاون سے ہے چلتی دوستو جملہ اخلاق و مروت کی یہی بنیاد ہے ”من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو (75) نئے مدعیان نبوت نبی اک جو دیکھا بصد آب و تاب تو کھانے لگے آپ بھی پیچ و تاب بنے چند رویا 1 دنیا 2 یعنی آسمان خود مدعی ر ہیں جھونپڑوں میں محلوں کے خواب“