بُخارِ دل

by Other Authors

Page 99 of 305

بُخارِ دل — Page 99

99 تخبارِ خاک پائے شہسوار عشق ہیں ہم بھی ہماری گرد کو بھی پا نہیں سکتا جو پیدل ہے یہ ہے پیغام مالک کا کوئی سالک کو پہنچا دے کے میرے غیر سے لذت تجھے زہر ہلاہل ہے کہاں تک درپئے راحت طلب کر منبع راحت کہ جس کو مل گیا وہ اُس کو جنگل میں ہی منگل ہے یہ جان و مال اور عزت اُنہی قدموں پہ جا ڈالو سوال وصلِ جاناں کا مرے پیارو! یہی حل ہے نہیں کچھ چند روزہ ہاؤ ہو کی قدر اُن کے ہاں پسند اُن کو وہ اُلفت ہے جو دائم ہے نہ ہو تو فیق کرنے کی تو دل میں تو ارادہ ہو مسلسل ؟ کہ نیت نیک مومن کی عمل سے اُس کے افضل ہے زبور عشق میں آیت عجب یہ اک نظر آئی کہ شب بھر سو کے لاف عشق جو مارے وہ پاگل ہے یعنی قرب الہی کے لئے تہجد پڑھنا ضروری ہے۔(الفضل 3 جنوری 1933ء)