بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 18
جو واپس برقعوں میں آئیں۔بلکہ امریکہ کی سوسائٹی کا تو یہ حال ہے کہ وہاں احمدی عورتوں نے چادر ہی نہیں، برقع پہنا شروع کر دیا ہے وہ کہتی ہیں کہ اگر ہم بُرقع نہ پہنیں تو ہم پوری طرح اپنی اقدار کی حفاظت نہیں کر سکیں گی۔لیکن جب وہ واپس آئیں تو جو حال ہو چکا تھا وہ بڑا ہی درد ناک ہے۔بعض ایسی بچیاں بھی ہیں جنہوں نے ماں باپ سے آنکھیں پھیریں اور غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ آوارہ ہو گئیں۔اس قسم کے شائد دو واقعات ہیں مگر نائور کی طرح دُکھ دینے والے واقعات ہیں۔یہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے میرا دل بے قرار اور بے چین ہے کہ میں آپ کو بار بار توجہ دلاؤں کہ اسلامی قدروں کی حفاظت کی طرف واپس آؤ۔یہ ایسا وقت ہے کہ جس میں عام اجازتوں سے بھی بعض دفعہ انسان روک دیا جاتا ہے۔جو چیزیں جائز ہیں وہ بھی بعض دفعہ خدا کی خاطر چھوڑنی پڑتی ہیں اور جو کام فرض نہیں ہیں وہ بھی کرنے پڑتے ہیں۔ایسے حالات بھی آجایا کرتے ہیں کہ تحریک جدید کا سارا دور آپ میں سے پہلی نسل کے سامنے ہے۔قرآن کریم میں کہاں لکھا ہوا ہے کہ دوکھانے منع ہیں یا تین کھانے حرام ہیں یا چار کھانے حرام ہیں۔کہاں لکھا ہوا ہے کہ عورتیں گوٹہ کناری استعمال نہ کریں۔لیکن جب وقت کی ضرورت تھی اور خلیفہ وقت نے حکم دیا تو عورتوں نے اپنے ہاتھوں کے کنگن اُتار دیئے۔بڑے بڑے امراء جن کو تنظم کی زندگی کی عادت تھی وہ ایک کھانے پر آگئے اور شادی بیاہ میں گوٹہ کناری سے بھی احتراز ہونے لگا۔احمدی عورت کا ایک کردار تھا وہ اپنے عہد کی سچی تھی۔وہ پورے خلوص دل کے ساتھ خلافت کی بیعت کرتی تھی۔اور اس کے بعد پھر یہ نہیں کہا کرتی تھی کہ یہ حکم کیوں دیا جارہا ہے اور کیوں ہم پر زیادتی کی جارہی ہے۔احمدیت نے اللہ کے فضل سے ایسی عظیم 18