بے پردگی کے خلاف جہاد

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 29

بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 16

بھی پڑھ سکتا ہوں۔اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ خطا ختم نہیں جاری تھا۔اور میں اسے پڑھتا رہا۔جہاں یہ خط ختم ہوا اس کے بعد یہ مضمون مضمر تھا کہ مجھے آج یہ نخوست کا دن بھی دیکھنا پڑا کہ جب تمہاری خلافت کی بیعت کرنی پڑی جو ظالم ہو اور انصاف کے خلاف فیصلے کرتے ہو۔یہ خط پڑھ کر پہلے مجھے خیال آیا کہ ان کو جواب دوں۔پھر میرے دل نے یہ فیصلہ کیا کہ جب خلیفہ وقت کے خلاف اس قسم کے اعتراض پیدا ہوں تو اس میں کسی بحث کا سوال نہیں رہا کرتا۔وہ معاملہ آسمانی عدالت میں چلا جاتا ہے۔پس میں ان کو کوئی جواب نہیں دُوں گا۔کیونکہ ان کے اور میرے درمیان فیصلہ قیامت کے دن ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو فیصلہ کرے گا کیونکہ وہی میرے دل کا حال جانتا ہے۔جب سختیاں کی جاتی ہیں تو کیوں اور کس طرح کی جاتی ہیں؟ وہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔حقیقت یہ ہے اور مجھے نظر آرہا ہے کہ اگلی نسلیں انتہائی خطرناک دور میں داخل ہونے والی ہیں۔ہر طرف بے حیائی کا دور دورہ ہے۔ہر طرف ایسے حالات پیدا ہور ہے ہیں کہ اگر آپ نے پردے کی خاص حفاظت نہ کی تو اتنے خطرناک حالات سے آپ کی اگلی نسلیں دو چار ہوں گی کہ آپ حسرت سے دیکھیں گی اور ان کو واپس نہیں لاسکیں گی۔آپ زندگی کے فیشن سے جس کا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں ذکر ہے، دُور جارہی ہیں۔اور جب آپ کو آپ کے فائدے کی خاطر روکا جاتا ہے تو جواب میں زخم لگا کر ، چر کے لگا کر اپنے دُکھ دوسروں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔میں نے ایسا کیوں کیا ؟ اس لئے کہ قرآن کریم فرماتا ہے:- إِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔(النور: ٢٠) 16