بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 6
جو اہل یورپ کے لئے بھی بار نہیں اور ان پر شاق نہیں گزرسکتا۔کیونکہ ان کی سوسائٹی میں عورت نے اقتصادیات میں بہت زیادہ آگے قدم بڑھالیا ہے۔اور وہ اقتصادیات کا ایک حصہ بن چکی ہے۔اس لئے اس کو باہر نکلنا پڑتا ہے۔اگر وہاں کی عورت اسی قسم کا پردہ کر لے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ وہ اپنے ماحول میں عین اسلامی پردہ کر رہی ہے۔اس کے بعد ایک اور پردہ ہے اور وہ چہرے کا پردہ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وضاحتوں کی روشنی میں جب حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے اس مضمون پر قلم اُٹھایا تو بڑی وضاحت کے ساتھ ، بغیر کسی استثناء کے یہ بات بیان فرمائی کہ چہرے کا پردہ بھی اسلامی پر دہ ہے اور اس کی بنیادوں میں داخل ہے۔مگر یہ پردہ کس سوسائٹی کے لئے ہے؟ اس کی وضاحت کے لئے جب آپ حضرت مصلح موعودؓ کی تفاسیر پڑھتی ہیں اور اس موضوع پر جو کچھ آپنے بیان فرمایا اس پر غور کرتی ہیں تو آپ کے سامنے یہ بات کھل کر آجائے گی کہ سوسائٹی کا وہ حصہ جو متمول ہے اور عام اصطلاح میں Advanced یعنی ترقی یافتہ کہلاتا ہے۔ان کو ہر قسم کی سہولتیں حاصل ہیں، گھروں میں کام کرنے والے اور خدمت گار ہیں، ہر قسم کے آرام اور آسائش کے سامان اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں، بنگلے ہیں، کوٹھیاں ہیں اور بظاہر زندگی کا مقصد اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ تسکین قلب کے لئے اپنے پیسے خرچ کرنے کی راہیں ڈھونڈیں یعنی یہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ ہم زندہ کس طرح رہیں، بلکہ یہ ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو پیسہ ہمیں عطا فرمایا ہے ہم اس کو کس طرح خرچ کریں تا کہ لذت یابی کے اور زیادہ سامان مہیا ہوں۔یہ وہ سوسائٹی ہے جسکے لئے حکم ہے کہ جہاں تک ہو سکے 6