بے پردگی کے خلاف جہاد

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page iii of 29

بے پردگی کے خلاف جہاد — Page iii

پیش لفظ اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کو فحشاء سے بچانے کے لیے نغض بصر کا حکم دیا ہے اور عورتوں کو خاص طور پر پردے کا حکم دیا ہے۔قرآن مجید کی تعلیم ایسی حسین ہے جو ہر قسم کی برائی کا قلع قمع کرتے ہوئے فطری تقاضوں کو پورا کرتی ہے اور ہر ایسی برائی کو جڑ سے ہی ختم کر دیتی ہے جو کسی وقت اور کسی زمانے میں بھی نقصان پہنچانے والی ہو۔موجودہ زمانہ میں بے پردگی کی وجہ سے عریانیت اور حد سے زیادہ نگ ظاہر کرنے سے اتنا نخش پھیل گیا ہے کہ شریف انسانوں کی نگاہیں شرم سے جھک جاتی ہیں اور نا قابل بیان برائیاں پیدا ہوگئی ہیں۔پس ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی روح کو سمجھتے ہوئے حقیقی رنگ میں پردہ اختیار کیا جائے۔یہی وہ حصار ہے جس میں پناہ لیکر ہم اپنی نسلوں کو زمانے کی برائیوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے 28 دسمبر 1982ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر مستورات سے جو خطاب فرمایا اس میں آپ نے اسلامی پردہ کیا ہے، اسے اختیار نہ کرنے کے کیا نقصانات ہیں ، کی وضاحت کرتے ہوئے احمدی مستورات کو سخت انتباہ فرمایا۔پس احمدی مستورات کو چاہئے کہ اسکو غور سے پڑھیں اور اسکے مطابق اپنی زندگیاں گزار ہیں۔نظارت نشر واشاعت اس خطاب کو شائع کر رہی ہے۔حافظ مخدوم شریف ناظر نشر و اشاعت قادیان