بیت بازی

by Other Authors

Page 45 of 52

بیت بازی — Page 45

در عدن ہو وفا کو ناز جس پر جب سے ایسا مطالع کیوں نہ ہو مشہور عالم پھر وفائے قادیاں نہ ہم نے ہر فضل کے پردے میں اُسی کو پایا وہی جلوہ ہمیں مستور نظر آتا ہے ہے کشادہ آپ کا باب سخا سب کے لئے پیر احسان کیوں نہ ہوں پھر مردوزن پیر و جواں پیر ہر گام پہ ہمراہ رہے نصرت باری ہر کچھ و هر آن خدا حافظ و ناصر ہر آن تیرا حکم تو چل سکتا ہے مولا وقت آ بھی گیا ہو تو وہ مل سکتا ہے مولا درتمان ی ہیں اکت ہے یا الہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا یارب ہے تیرا احساس میں تیرے در پر قربان تو نے دیا ہے ایجاں تو ہر زماں نگہاں یہ کیسے پڑگئے دل پر تمہارے جہل کے بڑے خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے نہیں آئینہ خالق نما ہے ! جوہر سیف دعا ہے یہی اک فخرستان اولیاء ہے بجا تقوی زیادت اُن میں کیا یا الہی فضل کو اسلام پر اور خود نیچا اس شکستہ ناؤ کے بندوں کی اب سن سے پکار یہ کہاں سے سن لیا تم نے کہ تم آزاد ہو کچھ نہیں تم پر عقوبت گو کرد عصیاں ہزار یہ وہ گل ہے جس کا ثانی باغ میں کوئی نہیں یہ وہ خوشبو ہے کہ قربان اس پر ہو مشک نثار یہ تو رہنے کی جا نہیں پیار کوئی اس میں رہا نہیں پیار یہ ہے خیال اُن کا پربت بنایا تنکا پر کیا کہیں جب ان کا فہم دڈ کا ہی ہے كلام محمود ہے یہ ہے دوسری بات مانو نہ مانو مگر حق تو یہ ہے کہ وہ آگیا ہے یونہی کہو نہ ہمیں لوگو کافر و مرتد ہمارے دل کی خبر تم پر آشکار نہیں یہ رعب اور شان بھلا اس میں تھی کہاں یہ دبدبہ تھا قیصر روما کو کب ملا یہ بھی اُسی کے دم سے ہے نعمت نہیں ملی ہاسٹ کر جان و دل سے خدا کا کرد ادا