بیت بازی

by Other Authors

Page 41 of 52

بیت بازی — Page 41

در عدن ماہر ہے سرجری میں تو ہے ڈاکٹر کو ناز مازق ہے گر طبیب طبابت پہ ناز ہے مانا کہ انکار بھی داخل ہے خلق میں پر کچھ نہ کچھ خلیق کو سیرت پہ ناز ہے بخار دل معرفت دل کو طے روح کو نور ایماں ذرے ذرے میں مرے عشق رجائے اپنا مذہب عشق کی دنیا سے نرالی ہیں رسوم۔زندگی ملتی ہے اس راہ میں بے جان ہو کر مال اور املاک وقف دیں ہوئے شوق جاہ و مال زائل ہو گیا C درحمين نام اس کا نیم دعوت ہے: آریوں کے لئے یہ رحمت ہے نہ کیا ہے ذکر کے پیدا نہ سوچ لو یہ خدا ہے ویدوں کا نبیوں کی ہتک کرنا اور گالیاں بھی دنیا کتوں سے کھونا منہ تنظیم فن ہی ہے نہ چھوڑیں وہ تیرا یہ آستانہ مرے مولا انہیں ہر دم بچانا نجات ان کو عطا کر گندگی سے برأت ان کو عطا کر بندگی سے نہ دیکھیں وہ زمانہ ہے کسی کا مصیبت کا اہم کا بے بسی کا علام محمود نہ چھیڑ دشمن ناداں نہ چھیڑ کہتا ہوں چھلک رہا ہے مرے غم کا آج پیمانہ نہ تیرے ظلم سے ٹوٹے کا رشتہ الفت گار ن حرص مجھ کو بنائے گی اس سے بیگانہ نہیں ہیں مرے قلب پہ کوئی نئی تجلیاں حرا میں تھا جو جلوہ گر مرا خدا وہی تو ہے نظر مقی جس پہ رحم کی جو خوشہ چین فضل تھا دلی نظام جاں نثار آپ کا وہی تو ہے نہیں ہے میں کے ہاتھ میں کوئی بھی لے رہی تو ہوں جو بے تقدیر خیر و شر مرا خدا وہی تو ہے ہے نونهالان جماعت مجھے کچھ کہنا ہے پر ہے یہ شرط کہ ضائع میرا پیغام نہ ہو