بیت بازی

by Other Authors

Page 40 of 52

بیت بازی — Page 40

در شمین م محمد وہ نبیوں کا سردار ہے کہ جس کا عدد مثل مردار ہے مولیٰ سے اپنے کچھ بھی محبت نہیں رہی دیں بھی ہے اک قشر حقیقت نہیں رہی مارتا ہے اس کو فرقاں سر نہر اس کے مرجانے کی دیتا ہے خبر مولوی صاحب ہی توحید ہے سچ کہو کسی دیو کی تقلید ہے مومنوں پر کفر کا کرنا گماں ہے یہ کیا ایمان داروں کا نشاں مجھ سے اس دستاں کا حال نہیں مجھ سے وہ صورت و جمال سنیں مجھ کو ہو کیوں ستاتے سو افترا بناتے بہتر تھا باز آتے دور از ملا یہی ہے مجھ پر وہ لطف کئے تونے جو ہر تریز خیال ذات برتر ہے تری پاک ہے ایواں تیرا ر میری اولاد کو تو ایسی ہی کردے پیارے دیکھ میں آنکھ سے وہ چہرہ تاباں تیرا تو ہے غفار ہی کہتا ہے قرآن تیرا میرے پیارے مجھے ہر درد و مصیبت سے بچا كلام محمود مسلمانی ہے پر اسلام سے نا آشنائی ہے نہیں ایمان کیسی ، باپ دادوں کی کمائی ہے میں نے مانا میرے دلبر تیری تصویر نہیں تیرے دیدار کی کیا کوئی بھی تدبیر نہیں مرے مولا مری بگڑی کے بنانے والے میرے پیارے مجھے فتنوں سے بچانے والے میں ترا در چھوڑ کر جاؤں کہاں چین دل آرام جاں پاؤں کہاں مری یہ آنکھیں کجا روشت دلدار کجا حالت خواب میں ہوں میں کہ یہ بیداری ہے كلام طاهر مجبوبی و رعنائی کرتی ہیں طواف اُس کا قدموں پر نشار اس کے حبشیدی و دارائی میرے اس دنیا میں لاکھوں ہیں مگر کوئی نہیں میرا تنہائیوں میں ساتھ نبھانے کے لئے میری ہر ایک راہ تیری سمت ہے رواں تیرے حضور اُٹھ رہا ہے میرا ہر قدم مجھ سے بڑھ کر میری بخشش کے بہانوں کی تلاش کس نے دیکھے تھے کبھی ایسے بہانے والے میرے بھائی آپ کی ہیں سخت چنچل سالیاں شعلہ جوالہ میں آفت کی ہیں پر کالیاں