بیت بازی

by Other Authors

Page 38 of 52

بیت بازی — Page 38

۳۸ گو ا جدائی ہے کٹھن دور بہت ہے منزل پر مرا آقا بنا لے گا مجھے بھی اپنے ماں گھٹا گرام کی ہجوم بلا سے اُٹھی ہے گرامت اک دل درد آشنا سے اٹھی ہے گم گشته اسیران ره مولا کی خاطر مدت سے فقیر ایک دُعا مانگ رہا ہے گھبر ائیں گھنگھور گٹ میں جھوم اٹھیں محشور ہوائیں جھک گیا ابر رحمت باری آب حیات کو برسانے ب دة عدن گوشہ نشیں کو ناز ہے یہ بے ریا ہوں میں جو نامور ہوئے انہیں شہرت پہ ناز ہے گلشن حضرت احمد میں چلی باد بہار ابر رحمت سے برسنے لگے پیہم انوار گویا تو کنکر پتھر تھی احساس نہ تھا ضیات نہ تھے تو میں وہ اپنی یاد تو کر ترکہ میں بانٹی جاتی تھی این تو در ثمین ل در لاکھ ہوں انبیاء مگر بخدا سب سے بڑھ کر مقام احمد ہے فعل میں بھی دیکھے در عدن بھی دیکھے سب جو ہر وں کو دیکھا دل میں جچا ہی ہے لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار لعنت کی ہے یہ راہ سو لعنت کو چھوڑ دو ور نہ خیال حضرت عزت کو چھوڑ لوگو سنو که زنده خدا وہ خدا نہیں جس میں ہمیشہ عادت قدرت نما نہیں رہے ہیں خدائے یکتا باز آتے نہیں ہیں خونما سے لگی سینے میں اس کے آگ غم کی نہیں اس کو خیر کچھ دیچ و خم کی لیکھو کی بدزبانی کا رد ہوئی تھی اس پر پھر بھی نہیں سمجھتے حمق و خطا ہی ہے كلام محمود لاکھوں انسان ہوئے دین سے پے دیں مہیات آج اسلام کا گھر گھر میں پڑا ہے تم : لوگوں کو غفلت کی تو ترغیب دیتا ہے مگر بھول جائے گا یہ سب کچھ اس سزا پانے کے دن :