بیت بازی — Page 37
18 درحمين گلشن احمد بنا ہے مسکن باد صبا جس کی تحریکوں سے ملتا ہے بشر گفتار یاد مگر کرکے معجز نمائی ایک دم میں نرم ہو وہ دل لگیں جو ہوئے مثل سنگ کو ہسار گر حیا ہو سوچ کر دیکھیں کہ یہ کیا راز ہے وہ مری ذلت کو چاہیں پا رہا ہوں میں وقار گر یہی دین ہے جو ہے انکی خصال سے عیاں میں تو اک کوڑی کو بھی لیتا نہیں ہوں بہادر گوہر وحی خدا کیوں تھڑتا ہے پوش کر تک ہی دیں کے لئے ہے جائے عزو افتخار گر نہ ہو تیری عنایت سب عبادت ہی ہے فضل پر تیرے ہے سب جہد و عمل کا انحصار گر یہی اسلام ہے میں جو گئی اُمت پلاک کس طرح رو مل سکے جب ایک ہی ہو تیک یک تیکر ہو گالیاں سن کر دعا دو یا کے دکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار گردنوں پر اُن کی ہے سب عام لوگوں کا گناہ جن کے وفظوں سے جہاں سے آگیا دل میں نجد گر گمان صحت کا ہو پھر قابل تاویل ہیں کیا حدیثوں کے لئے فرقاں پہ کر سکتے ہو دار دل ہوتا كلام محمود گیدڑ کی طرح وہ ناک میں ہوں بیٹوں کے شکار پر جانے کی اور بیٹے خوابیں دیکھتے ہوں وہ ان کا جھوٹا کھانے کی گر تیری ہمت جھوٹی ہے گر تیرے ارادے مرد ہیں گر تیری امنگیں کو تہ ہیں گر تیرے خیال فسٹر ہیں گاتے ہیں جب فرشتے کوئی نغمہ جدید ہاتھوں میں تھام لیتے ہیں فوراً ہی ساز ہم کو بارہا دیکھا نہیں لیکن وہ لذت اور تھی دل سے کوئی پوچھے ذرا لطف نگاہ اولیں گزری ہے عمر ساری گناہوں میں اے خدا کیا پیشکش کیا پیشکش حضور میں یہ شرمسار دے گلشن عالم کی رونق ہے فقط انسان سے گل بنانے ہوں اگر تو نے تو کر گل کی تلاش گالیاں کھائیں ہٹے خوب ہی رسوا بھی ہوئے عشق کی ایسی حلاوت ہے کہ جاتی ہی نہیں کلام طاهر عمل بوٹوں ، گلیوں ، پتوں سے کانٹوں سے خوشبو آنے لگی اک عنبر بار تصور نے یادوں کا چمن مہکایا ہے