بیت بازی

by Other Authors

Page 21 of 52

بیت بازی — Page 21

ز در ثمین زندہ وہی ہیں جو کہ خدا کے قریب میں مقبول بن کے اس کے عزیز وطبیب ہیں زندگی بخش جام احمد ہے کیا ہی پیارا یہ نام احمد ہے زندگی ایسوں کی کیا خاک سے اس دنیا میں جن کا اس نور کے جوتے بھی دل اٹلی نکلا ند سے پیار کرتے ہیں اور دل لگاتے ہیں ہوتے ہیں زر کے ایسے کہ بس مرسی جاتے ہیں زلزلہ سے دیکھتا ہوں میں زمین زیر و زیر وقت اب نزدیک ہے آیا کھڑا سیلاب ہے زہر کے پینے سے کیا انجام جز موت وفنا بدگمانی زہر ہے اس سے بچھو اے دیں شعار زمین قادیاں اب محترم ہے بیجوم خلق سے ارض حرم ہے کلام محمود زمیں سے ظلمت شرک ایک دم میں ہوگی دور ہوا جو جلوہ نما لا اله الا الله ند خالص سے بڑھ کر صاف ہونا چاہیے دل کو ذرا بھی کھوٹ ہو جس میں مسلماں ہو نہیں سکتا زلزلوں سے ہماری سہستی کی : ہل گئی سر سے پا تلک بنیاد زباں نے اس کو پڑھ کر پائی برکت ہوئیں آنکھیں بھی اسی سے نور آگیں زباں مرہم بنے پیاروں کے حق میں گر اعداد کو کاٹے مثل شمشیر زندگی اُس کی ہے دن اُسکے ہیں انہیں اُس کی وہ جو محبوب کی صحبت میں رہا کرتا ہے زمانہ کو حاصل ہو نور نبوت جو سیکھے قوانین و دستور ہم سے كلام طاهر زیر دئم میں دلوں کی دھڑکن کے موخبرن ہو خدا کا نام۔چلو زنده باد غلام احمد ، پڑ گیا جس کا دشمن جھوٹا - جاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ نَمُومًا زندگی اِس طرح تمام نہ ہو کام رہ جائیں نا تمام چلو