بیت بازی

by Other Authors

Page 20 of 52

بیت بازی — Page 20

کلام محمود رہ گیا سایہ سے محروم ہوا بے برکت سرو نے کیا لیا احباب سے اُونچا ہو کر رہ چکے پاؤں نہیں جسم میں باقی طاقت رحم کر گود میں اب مجھ کو اٹھا ہے پیارے رعب حسن شہ خوباں کو ذرا دیکھو تو ہاتھ با معے میں کھڑے شاہ و گدا دیکھو تو باندھے راز داں اس کی شکایت ہو اُسی کے آگے اس کی تصویر کو آنکھوں سے ہٹا لوں تو کہوں راہ مولا میں جو مرتے ہیں وہی جیتے ہیں موت کے آنے سے پہلے ہی فنا ہو جاؤ رنگ بھی روپ بھی ہوشن بھی ہو لیکن پھر فائدہ کیا ہے اگر سیرت انسان نہ ہو راتوں کو آکے دیتا ہے مجھ کو تسلیاں مردہ خدا کو کیا کروں میرا خدا یہ ہے رونق مکاں کی ہوتی ہے اُس کے مکین سے اس دلبریا کو دل میں بسانا ہی چاہیے کلام طاهر رات بھر چھیڑے گی احساس کے دکھے ہوئے تار ایک اک تار سے اُٹھے گی نوائے غم و حرین بارے اٹھے تو غم و چون رات سجدوں میں اپنے رب کے حضور اُن کے غم میں بھی آپ روتے ہیں راہ گیروں کے کسیروں میں ٹھکانا کر کے بے ٹھکانوں کو بنا ڈالا ٹھکانے والے روتے روتے سینے پر مر یکہ کہ ہوگئی ان کی یاد کون پیا تھا ؟ کون پری و بعید نہ پایا ساری است رات خدا سے پیار کی پینگیں صبح بہتوں سے یارانے کچھ لوگ گنوا بیٹھے دن کو جو یار کیا یا ساری رات در عدن رکھے پیش نظر وہ وقت بہن جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیواریں روتی تھیں جب دُنیا میں تو آتی تھی راحت ہی میں نے تم سے بہر طور پائی ہے تم کو بھی دو جہان میں راحت نصیب ہو روح حیس کے لئے تڑپتی تھی انی کا جلوہ دکھایا تو نے راہ حق میں جب قدم آگے بڑھائے ایک بار سر بھی کٹ جائے نہ پھر پیچھے بنائے قادیاں بخار دل راو وصال یار نہیں ملی صراط ہے ہر اک قدم یہاں پر خدا را سنبھال کے روح کو کر نصیب تقویٰ ہو زیر فرمان آگئی گویا رات ساری کئی دعا کرتے ان سے یہ عرض و التجا کرتے