بیت بازی — Page 16
14 در همين دلبرا مجھے کو قسم ہے تری یکتائی کی آپ کو تیری محبت میں پھلایا ہم نے دیکھ کو وہ ساری باتیں کیسی پوری ہوگئیں جن کا ہونا تھا بعید از عقل و فہم دانتکار دل جو خالی ہو گذاز عشق سے وہ دل ہے کیا دل وہ ہے جس کو نہیں بے دلیر یکتا قرار دیں کودے کہ ہاتھ سے دنیا بھی آخر جاتی ہے کوئی آسودہ نہیں بین عاشق و شیدائے یار دل نکل جاتا ہے قابو سے پی شکل سوچ کو اے میری جاں کی پنہ فورج ملائک کو اتار دو کر منگل کے دن آیا تھا ایسا زلزلہ جس سے اک محشر کا عالم تھا بصد شور و پکار دیکھتے ہر گز نہیں قدرت کو اس شمار کی گوسنا دیں ان کو وہ اپنی بجاتے ہیں ستار دیئے دیریں دھو اپنے دل سے وہ سارے صحبت نہیں کے رنگ پھول بن کر ایک مدت تک ہوئے آخر کو خوار دے رشد اور ہدایت اور عمر اور عزت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّدَانِي اگر صدق ہے جلد دوڑو ادھر ے چکے دل اب تن خاکی رہا ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی خدا دکھاؤ خدا آج اس کا اثر دے كلام مود دل پھٹا جاتا ہے مثل ماہی بے آب کیوں ہو رہا ہوں کس کے پیچھے اس قدر بیتاب کیوں دل میں ہو سوز تو آنکھوں سے رواں ہوں آنسو تمر میں اسلام کا ہو مغز فقط نام نہ ہو دل چاہتا ہے طور کا وہ لالہ زار ہو اور آسماں پہ جلوہ کناں میرا یار ہو در د الفت میں مزا آتا ہے ایسا ہم کو کهہ شفایابی کی خواہش نہیں اصلا ہم کو كلام طاهر دن رات دید وائس پر ہر ادنی غلام اس کا پڑھتا ہے بصد منت بنتے ہوئے نام اس کا دل اس کی محبت میں ہر لحظہ تھارام اس کا اخلاص میں کامل تھا وہ عاشق نام اس کا دیکھ اس درجہ غیم ، ہجر میں روتے روتے مر نہ جائیں تیرے دیوانے کہیں آج کی رات دیں مجھ کو اجازت کہ کبھی کہیں بھی تو روٹھوں تلف آپ بھی لیں رُوٹھے کاموں کو منا کے دن آج کب ڈھلے گا۔کب ہو گا ظہور شب ہم کب کریں گے چاک گریباں حضور شب