بیت بازی

by Other Authors

Page 15 of 52

بیت بازی — Page 15

خدا کے جو ہیں وہ یہی کرتے ہیں ده لعنت سے لوگوں کی کب ڈرتے ہیں خدا نے جو لکھا وہ کب ہو خطا وہی ہے خدا کا کلام صفا ! خود میرے کام کرنا یا رب نہ آزمانا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يماني کلام محمود خیر اندیشی احباب رہے مد نظر عیب چینی نہ کرو مفسد و تمام نہ ہو خود پلائی مجھے اس نے مئے عرفان خاص معترض نازاں ہوں میں اس پر کہ مے خواروں میں ہوں خوف اگر ہے تو یہ ہے تجھ کو نہ پاؤں ناراض جان جانے کا تو اسے جان جہاں ڈر ہی نہیں خواہش وصل کروں بھی تو کروں کیوں کر میں کیا کہوں ان سے کہ مجھ میں کوئی جو ہر ہی نہیں كلام طاهر خیرات ہو مجھ کو بھی۔ایک جلوہ عام اس کا پھر یوں ہو کہ ہو دل پہ الہام کلام اس کا ختم ہوئے جب گل نبیوں کے دور نبوت کے افسانے بند ہوئے عرفان کے چشمے، فیض کے ٹوٹ گئے پیمانے خاک آلودہ، پراگندہ زبوں حالوں کو کھینچ کر قدموں سے زائو پر بٹھانے والے خوشیوں میں کھٹکنے لگی کشک دل کی اک ایسی ٹھوک دلِ بے نوا سے اٹھی ہے خیرات کہ اب ان کی رہائی مرے آقا کشکول میں بھر دے جو میرے دل میں بھرا ہے د عدن دیار مہدی آخر زماں میں رہتے ہو خوش نصیب کہ تم قادیاں میں رہتے ہو خدا نے بخشی ہے انکار کی نگہبانی اسی کے حفظ اُس کی اماں میں بہتے ہو خالق الخلق ربي الاعلى حي و قيوم محي فى الموتى بخار دل خاتمہ بالخیر کر دے اے خدا راستہ سیدھا تو حاصل ہو گیا خدمتِ اسلام میں خود کو لگا چھوڑ دے للہ اب بیکاریاں خادم دین متیں ضائع نہ ہو الیسی خدمت سے ملیں سرداریاں