بیت بازی

by Other Authors

Page 14 of 52

بیت بازی — Page 14

۱۴ كلام طاهر حیا سے عاری ہسیہ سخت نیش زن مردود یہ واہ واہ کسی کربلا سے اُٹھی ہے حُسن کی چاندنی سے تابندہ پھول چہرہ کھلا کھلا سا تھا حضرت سید ولد آدم صلی اللہ علیہ وسلم سب نبیوں میں افضل و کرم صلی اللہ علیہ وسلم حال دل خراب تو کوئی نہ پا سکا چین جبیں سے اہل جہاں بدگماں ہوئے معدن حکم فرمایا قلم تھامے ہوئے میدان میں آ صفحہ قرطاس سے رد کر عدو کے وار کا حسرت میں نظروں میں لے کر صور میں سب کی سوال اب کہاں تسکین ڈھونڈیں بے سجائے دل حزیں حسن رقم پہ ناز ہے مضمون نگار کو پھر کاتبوں کو حسن کتابت پہ ناز ہے بخار دل حشر میں پرسش ہے لیس اعمال کی کام آئیں گی نہ رشتہ داریاں حرف آنے نہ دیا صدق و وفا پر اپنے جور اعداد کا سہا فرم و خنداں ہو کر حتی بھی مٹتا ہے تعدی سے کہیں اے ظالم خود ہی مٹ جائے گا تو دست و گریباں ہو کر خ ୯۔در ثمین خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے جب آتی ہے تو یہ عالم کو اک عالم دکھاتی ہے آتی ہے پیٹ خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برا بر ہو وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے خدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت کفرواں ہے ندا سے کچھ ڈرو یارو یہ کیسا کذب دکہتاں ہے ندا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اس پہ نثار خون سے مردوں کے کوہستان کے آب رواں سُرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شراب انجبار خدا کے لئے ہو گیا دردمند تنغم کی راہیں نہ آئیں پسند خدا پر خدا سے یقین آتا ہے وہ باتوں سے ذات اپنی سمجھانا ہے