بیت بازی

by Other Authors

Page 13 of 52

بیت بازی — Page 13

۱۳ بخار دل چاہتا ہے قرب گیر قربان ہو تاکہ تو حیوان سے انسان ہو چل رہی ہیں زندگی پر آریاں ہو رہی ہیں موت کی تیاریاں چھوڑنا چاہتے ہیں کمبل کو پر نہیں چھوڑتا یہ کمبل ہے در ثمین ح حاجتیں پوری کریں گے کیا تیری عاجز بشیر کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے حمد وثت اُسی کو جو ذات جاودانی ہمسر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی حد سے کیوں بڑھتے ہو لوگو کچھ کر د خوف خدا کیا نہیں تم دیکھتے نصرت خدا کی بار بار حرف وفا نہ چھوڑوں اس عہد کو نہ توڑوں اس دلبر ازل نے مجھ کو کہا یہی ہے حشر جس کو کہتے ہیں اک دم میں برپا ہو گیا ہر طرف میں مرگ کی آواز تھی اور اضطرار حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی نکلا حسرتوں سے مرا دل پر ہے کہ کیوں حکم ہو تم یہ گھٹا اب جھوم جھوم آتی ہے دل پر بار بار حاذق طبیب پاتے ہیں تم سے یہی خطاب خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا کلام محمود ہیں مجبور حی پر ہم ہیں یا کہ یہ حاد میں جھگڑا ہے کیا فیصلہ اس بات کا روز جزا ہو جائے گا حق یہ یا حق کے پیاسوں کے لئے آب بقا ہو جاؤ خشک کھیتوں کے لئے کالی گھٹا ہو جاؤ حقیقت کھول دی ان پر ہماری مگر تاریکی دل حسن اس کا نہیں کھلتا تمہیں یہ یاد ہے دوش مسلم پہ اگر چاور احرام نہ ہو حُسن ہر رنگ میں اچھا ہے مگر خیال رہے دانہ سمجھے ہو جسے تم وہ کہیں دام نہ حلال کھا کہ ہے رزق حلال میں برکت زکوۃ دے کہ بڑھے تیرے مال میں برکت