بیت بازی — Page 12
۱۲ چھوڑنی ہو گی تجھے دنیائے فانی ایک دن ہر کوئی مجبور ہے حکم خدا کے سامنے چاہئے تجھ کو مٹانا قلب سے نقش دوئی سرجھکا لبس مالک ارض و سما کے سامنے چاہئے نفرت بدی سے اور نیکی سے پیار ایک دن جانا ہے تجھ کو بھی خدا کے سامنے چل رہی ہے نسیم رحمت کی جو دعا کیھٹے قبول ہے آج چھٹ گئے شیطان سے جو تھے تیری الفت کے اسیر جو ہوئے تیرے لئے بے برگ و بر پائی بہار کلام محمود چاروں اطراف میں مجنوں ہی نظر آتے ہیں نہ ہوا ہو وہ کہیں جلوہ نما دیکھو تو چادر فضل و عنایت میں چھپالے پیارے غرق ہوں بحر معاصی میں بچالے پیارے چھوڑ دو حرص کرد زهد و قناعت پیدا زر نه محبوب بنے سیم دل آرام نہ ہو چھوڑ دو غیبت کی عادت بھی کہ یہ اک زہر ہے روح انسانی کو ڈس جاتی ہے یہ مانند مار چھوڑتے ہیں غیر سے مل کر تجھے یا الہی اس میں کیا اسرار ہے چلتے کاموں میں مڑ دینے کو سب حاضر ہیں جب بگڑ جائیں فقط ایک خدا کرتا ہے چشمه انوار میکے دل میں جاری کیجئے پھر دکھا دیجھے مجھے عنوان روئے آفتاب کلام طاهر چھین لے ان سے زمانے کی جہاں ٹانک وقت بنے پھرتے ہیں کم اوقات زمانے والے چشم گردوں نے کبھی پھر نہیں دیکھے وہ لوگ آئے پہلے بھی تو تھے آکے نہ جانے والے ایم میں آتا ہو کیوں پھر دید کامسکن چشم خریں میں آتو کیسے ہو میرے حبیب کیوں پھر بھی میری دید کا مسکن اُداس ہے۔بام و در جن کے اُجالے میں دو گھر غیر کے ہیں چکا پھر آسمان مشرق پر نام احمد مغرب میں جگمگایا ماہ تمام احمد در عدن چن لیا اک عاشق خیر الرسل شیدائے دیں جس کی رگ رگ میں بھرا تھا عشق اپنے یار کا متقاعشق چیر کر لینے پہاڑوں کے قدم اس کے بڑھے سینہ کوبی پر ہوئے مجبور اعدائے نہیں