بیت بازی — Page 11
" جب نظر میری پڑی ماضی پر دل خون ہوا جان بھی تن سے مری نکلی پسینہ ہو کر جن پر ہر ایک حقیقت مخفی تھی منکشف ده واقفان راز وہ فرزا نے کیا ہوئے جن باتوں کو سمجھے تھے بنیاد ترقی کی جب غور سے دیکھا تو ٹھتے ہوئے سائے تھے جن پر پڑیں فرشتوں کی رشک سے نگاہیں اے ایسے محسن ایسے انسان مجھ کو دے دے كلام طاهر جہاں اہلِ جفا اہل وفا پر وار کرتے ہیں سیر دار اُن کو ہر منصور کو لٹکانا آتا ہے جہاں شیطان مومین پر رکھی کرتے ہیں وہ راہیں جہاں پتھر سے مرد حق کو سر کرانا آتا ہے جا کہ اب قرب سے تیرے مجھے دُکھ ہوتا ہے اب شب غم کے سویرے مجھے دُکھ ہوتا ہے جسم اس کا ہے سب انداز مگر غیر کے ہیں آنکھ اس کی ہے پر اطوار نظر فیر کے ہیں جن پہ گوری ہے وہی جانتے ہیں۔غیروں کو کیسے بتلائیں کہ تھی کتنی حسین آج کی رات در عدن جاری سب کا ڈبار جہاں پر دل میں خیال پار نہاں دن کاموں میں کٹ جاتا ہے راتوںکو اٹھ کر روتے ہیں جب باپ کی جھوٹی غیرت کا خون جوش میں آنے گیا تھا جس طرح جنا ہے سانپ کوئی ہوں ماں تیری گھبراتی تھی بخار حل ہو جب تلک باطن نہ تیرا پاک کام کیا آئیں گی ظاہر داریاں جیتے جی جتنا کوئی چاہیے نے بعد مرون ختم ہیں عیاریاں جاہ اور اولاد عزت جان ومال توڑ دے اُن سے تعلق داریاں در ثمين چ چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے سب سے پہلے یہ کرم ہے مرے جاناں تیرا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیوں کہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا چھو کے دامن تیرا ہر دام سے ملتی ہے نجات لاجرم در پہ تیرے سر کو جھکایا ہم نے یا