بیت بازی

by Other Authors

Page 10 of 52

بیت بازی — Page 10

" در ثمین ثمر ہے دور کا کب غیر کھا دے چلو اوپر کو وہ نیچے نہ آوے کلام محمود ثمار عشق ہیں کیسے کبھی تو چکھ کر دیکھ یہ بیج باغ میں اپنے کبھی لگا تو سہی تمریا سے یہ پھر ایمان لائیں یہ پھر واپس تیرا قرآن لائیں بخار دل ثابت نہیں اگر یہ تیرا اختیار و ترک دعوے کو بندگی کے اُٹھا اپنے منہ پر مار ثنا کیا ہو سکے اس پیشوا کی کہ پیرو جس کا محبوب خدا ہو درعين ج جمال وحسن قرآن اور جان ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآن ہے جب کھل گئی ، سچائی پھر اس کو مان لینا نیکوں کی ہے یہ خصلت راو جیا ہی ہے یاں بھی ہے ان پہ قربان گردل سے ہو دیں صافی پس ایسے بدکنوں کا مجھ کو گلا یہی ہے جب ہو گئے ہیں ملزم اُترے ہیں گالیوں پر ہاتھوں میں جاہلوں کے رنگ جفا ہی ہے جلد آریا سے ساقی اب کچھ نہیں ہے باقی دے شربت تلاقی حرص و ہوا ہی ہے جو راز دیں تھے بھارے اس نے بتائے سارے دولت کا دینے والا فرمانروا یہی ہے جلد آمرے سہارے غم کے ہیں بوجھ بھارے مند مت چھپا پیارے میری دوا ہی ہے جسم کو کل کل کے دھونا یہ تو کچھ مشکل نہیں دل کو جو دھو دے رہی ہے پاک نزد کردگار جیفہ دنیا پر کمیسر گر گئے دنیا کے لوگ زندگی کیا خاک ان کی جو کہ میں مردار خوار کلام محمود جلوہ یار ہے کچھ کھیل نہیں ہے لوگو احمدیت کا بھلا نقش مٹا دیکھو تو جلوہ دکھلا مجھے او چہرہ چھپانے والے رحم کو مجھ پر او منہ پھیر کے جانے والے