بیت بازی — Page 9
کلام طاهر تاریکی پر تاریخی ، گمراہی پر گمراہی اہمیں نے کی اپنے شکر کی صف آرائی آمرے دل کی شش جہات بنے ایک نئی میری کائنات بنے تیرا غلام کر ہوں ترا ہی اسیر عشق تو میرا بھی جیب سے محبوب کبریا تیرے لئے ہے آنکھ کوئی اشکبار دیکھ نظریں اُٹھا خدا کے لئے ایک بار دیکھ توڑ دیتیں ڈالیاں، آتا نہ کچھ ان کو خیال آپ تو داڑھی منڈا کر جاگ گئے ہیں بال بال در عدن تجھ کو اللہ نے نوازا ہے ستجھ کو بخشا ہے اُس نے قرب وجوار تجھ پر اس نے کیا ہے فضل و کرم تجھ پر کی ہے نگاہ لطف و پیر بخار دل تم ساکسی میں حسن گلو سوز ہے کہاں عالم کی ساری گرمی بازار ہو تمہیں تم سے نہ گر کہوں تو کہوں کس سے جاکے اور اچھا ہوں یا کیا میری سرکار ہو تمہی توجہ ہو تضرع ہو تذیل ہو تیل ہو نماز عشق ان ارکان سے ہوتی مکمل ہے در ثمین ٹوٹے کاموں کو بنا دے جب نگاہ فضل ہو پھر بنا کر توڑ دے اک دم میں کردے تارتار کلام محمود ٹوٹ جائیں کس طرح سے عہد کے مضبوط رشتے مل جائے جو بھی آئے مصیبت خدا کرے پہنچے نہ تم کو کوئی اذیت خدا کرے ٹیڑھے استہ پر چلے جاتے ہیں تیرے بندے پھیر لائیں انہیں اور راہ کو سیدھا کریں ٹوٹی ہوئی کمر کا اللہ ہی ہے سہارا اللہ ہی ہمارا اللہ ہی ہو تمھارا کلام طاهر ٹھہریں تو ذرا دیکھیں خفا ہی تو نہ ہو جائیں جاتا ہے تو کچھ درس تو دیں صبر و رضا کے