برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی

by Other Authors

Page 19 of 29

برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 19

FF رعایا کے حقوق اب ہر طرح محفوظ رہتے ہیں ادھر قانون حامی ہے ، ادھر حاکم نگہباں ہے محبت بڑھ رہی ہے فاتح و مفتوح میں باہم گرہ جو دل میں تھی ، وہ اب مثالِ دُرّ غلطان ہے پریس کو بھی ہے عہد امپرش میں کامل آزادی زبانِ خامہ مضمون نگاران سیف بُتاں ہے توجہ ہے مفید عام کاموں کی طرف سب کی * کوئی ہے علم کا طالب ، ہنر کا کوئی خواہاں شفا خانوں نے ثابت کر دیا ہے اس مقولے کو ہے لئے ہر رنج راحت ہے ؟ لیے ہر درد درماں ہے ہے خلوص و صدق دل سے ہے دعا ہندو مسلماں کی کہ یا رب جب تلک یہ گردش گردون گرداں فروغ مہر ومہ سے جب تلک مرکز جمنا کا ہے ہوائے آرزو جب تک محیط قلب انساں ہے خدا کے نام کی عزت ہے جب تک اہل دانش میں مجتبی علم کی جب تک چراغ راه عرفاں ہے ہماری حضرت قیصر رہیں اقبال و صحت سے شستند کہ جن کا آفتاب عدل اس کشور پر تاباں ہے (کلیات اکبر حصہ اول) * ۳۵ شاعر مشرق سر محمد اقبال (۱۸۷۷ء ۱۹۳۸ء ) جناب محمد عبد اللہ قریشی تحریر فرماتے ہیں: اشک خُون دس بند یا ایک سو دس شعر کا یہ ترکیب بند اس ماتمی جلسے میں پڑھا گیا جو ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر لاہور میں منعقد ہوا تھا۔ملکہ کا انتقال ۲۲ / جنوری ۱۹۰۱ ء کو ہوا۔اتفاق سے اس روز عید الفطر تھی۔پہلے دو بندوں میں اسی طرف اشارہ ہے۔یہ مرثیہ مطبع خادم التعلیم میں چھاپ یہ کرسکتا بچے کی شکل میں شائع کیا گیا تھا۔میت اُٹھی ہے شاہ کی تعظیم کے لئے اقبال اڑ کے خاک سر رہ گزار ہو مدت کے بعد تجھ کو ملے میں غم فراق ہم تجھ پر صدقے جائیں تو ہم پر ناز ہو چلتے رہ حیات ، مگر گھات میں خوشی کونے لگی ہوئی نہ سر راہ گزار ہو آئی ادھر نشاط ، ادھر غم بھی آگیا کل عید تھی تو آج محترم بھی آگیا شاہی یہ ہے کہ آنکھ میں آنسو ہوں اور کے چلائے ئے کوئی درد کسی کے جگر میں ہو جو بات ہو صدا ہو لب جبرئیل کی تقدیر کی مُراد دل داد گر میں ہو چشم معدلت کے ستارے کی روشنی مانگے اماں عدو تو مروت نظر میں ہو اقلیم دل کی آہ شہنشاہ چل بسی ماتم کدہ بنا ہے دلِ داغدار آج تو جس کی تخت گاہ تھی اے تخت گاو دل رخصت ہوئی جہان سے وہ تاجدار آج فرماں نہ ہو دلوں پہ تو شانِ شہی نہیں سونے کا تاج کوئی نشان شہی نہیں شہرت کے آسمان پہ روشن ہو اس طرح ہو مہر میں وہ نور ، نہ وہ فو قمر میں فرمان ہوں دلوں کی ولایت میں اس طرح جس طرح نور رشتہ تارِ نظر میں ہو اے ہند تیری چاہنے والی گزر گئی غم میں ترے کراہنے والی گزر گئی