برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی

by Other Authors

Page 18 of 29

برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 18

-L جدھر M دیکھو، کھلی پڑتی ہیں کلیاں صحن گلشن میں بھرا جوششِ مُسرت ہے ہر اک مرغ خوش الحاں ہے بسانِ بوئے گل ہر اک ہے باہر اپنے جانے سے نسیم گلشنِ عیش چمک کر ہو گیا، زبیر فلک رشک قمر ہر گھر مستر عطر افشاں ہے یہی شب ہے کہ جس کا نور رشک مہر تاباں ہے فروغ اپنا جو دکھلاتی ہیں آتش بازیاں ہر سو کواکب کہیں ہے رقص کی محفل ، کہیں ہے مضمحل ہیں ، دیدہ افلاک حیراں ہے جلسه دعوت کہیں تصویر بنتی ہے ، کہیں سرو چراغاں ہے کہیں خیرات خانے جاری ہوتے ہیں ، کہیں بکتب کہیں تقسیم کپڑوں کی پئے فصل زمستاں ہے اثر جوش مسرت کا ہے ہر ادنی و اعلیٰ کوئی ہے کوئی فرماں روا ہے کوئی کم مایہ دہقاں ہے ہے محو آسائش ، کوئی مصروف آرائش شگفتہ مثل گل چہرہ ہے ، دل شاداں فرحاں ہے تعجب کیا اگر ایسی خوشی ہے اہل عالم کو حیرت کیا جو قیصر کا ہر اک دل سے ثنا خواں ہے سریر آرائی پنجاه سالہ خیر خوبی محفل مصري لطف نباری ہے ، مقام شکر یزداں ہے PP یہی ہندوستاں کہتے ہیں جنت نشاں جس کو کوئن وکٹوریہ کے عہد میں رشک گلستاں ہے رئيس امن و اماں سے ناظر حال ریاست ہیں ہری کھیتی زمینداروں کی ہے ، سرسبز دہقاں ہے کمی بدلی کرے گر قطره افشانی میں کیا پروا کہ فیض نهر امان زمین پر گوھر افشاں ہے سلطان کی ہے خاص تعلیم رعایا پر اشاعت علم کی یہ ہے کہ ہزاروں مدرسے قائم ہوا ہوئے ہیں ، سینکڑوں کالج۔عقل حیراں ہے جہاں فکر ارسطو بھی بس اک طفلِ دبستاں ہے جہاں چلتا نہ تھا کچھ زور ، واں اب ریل چلتی ہے متیسر خاکساروں کو بھی اب تخت سلیماں ہے نہ کچھ کھٹکا ہے چوروں کا ، نہ قزاقوں کی ہے دہشت رواں بے زحمت و خوف و خطر ہر سمت انساں ہے تجارت کی بھی ایسی ہو رہی ہے گرم بازاری که سامان معیشت جنس دل سے بھی ارزاں ہے جبيل طلسم تازہ دیکھا کارخانہ تار برقی کا زبان تار پر وہ بات ہے جو دل میں پنہاں ہے شب تیرہ میں بھی وہ نور ہے اقبال قیصر کا & ہر ذرہ نگاہ درد میں مہر درخشان ہے نسي ست۔