برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 17
فصل سيت سچ ہے وہ وارث زمیں کے ہوں گے جو ہوں گے حلیم حالم سے اپنے ملی آفاق میں مکنت تجھے وہ تسلی پائیں گے دنیا میں جو جھیلیں گے غم چکے غم بس تسلی دے گی اب راحت تجھے ہو fore report font faut وکٹوریہ کا زریں عہد حکومت اور برٹش انڈیا کے مسلم مبصرین تو مبارک تھی کہ تجھ کو صلح تھی دل سے پسند دے گا فرزندی کا اب اپنی خدا خلعت تجھے ملکہ وکٹوریہ (۱۸۱۹ء۔۱۹۰۱) کے امن پرور اور زرین دور اقتدار کو اس زمانہ کے مسلم تو مبارک تھی کہ تھا پہلو میں تیرے پاک دل ہو مبارک خلد میں دیدار کی نعمت تجھے ملک میں اک نور تھی تو جیسے ڈیوٹ پر چراغ دیکھ کر ہوتا تھا روشن ملک اور ملت تجھے ++ مبصرین نے زبر دست خراج تحسین ادا کیا جو برٹش انڈیا کی تاریخ کا سنہری باب ہے۔چند فردتھی اقبال میں تو بے نظیر اخلاق میں تیرے مرنے سے ہی سناٹا سا اک آفاق میں نابغہ روزگار شخصیات کے شعری افکار و نظریات زیب قرطاس کرتا ہوں۔علامہ الطاف حسین حالی (۱۸۳۷ء ۱۹۱۴ء) ہو گیا برٹن تو تیرے عہد دولت میں نہاں ہم پہ بھی کچھ کم نہیں برسا ترا ابر نوال شکر بندوں کا خدا کے جو نہیں کرتے ادا وہ نہیں لاتے بجا شکر خدائے ذوالجلال ہند نے پایا ترے دور حکومت میں وہ امن او اگلے دوروں میں نہ تھا جس کا کبھی خواب و خیال لی گئی قحط اور دیا میں ملک کی جو یاں خبر تھا زمانہ تیرا اُس میں آپ ہی اپنی مثال شکر آزادی کا تیرے عہد کے ممکن نہیں سب کا اس احسان میں جکڑا ہوا ہے بال بال الغرض اس سے سوا خوبی نہ تھی امکان میں کر گئی تو راج جس خوبی سے ہندوستان میں ۱ واقعات دار الحکومت دہلی ، صفحہ ۷۸۱ تا ۷۸۲ مصنفہ بشیر الدین احمد ۱۹۱۹ء) ہے تری نیکی سے امید اے زمیں کے بادشا آسمانی بادشاہت میں خدا دے تجھ کو جا کر لیئے تھے سب یگانوں اور بیگانوں کے دل نیکیوں سے تو نے اپنی فتح اے وکٹوریہ ہے دلیل اس کے لیے کافی فقط تیری مثال مرد پر عورت فضیلت کا کرے گر ادعا کیجیے اقبال مندی پر اگر تیری نظر سامنے تیرے نہیں جیتا کوئی کشور کشا قوم کو واں تک ترے اقبال نے پونچا دیا مرتبہ ہے جو کہ سرحد تصویر سے پرے کی تجارت نے ترقی عہد میں یہاں تک ترے سلطنت ہے اُس کے آگے پیچ بے چون و چرا مولانا سید اکبر حسین اکبر الہ آبادی ۱۸۴۶ - ۱۹۲۱ء جس قدر علمی فتوحات اس زمانے میں ہوئیں۔دہر کی تاریخ میں ملتا نہیں اُن کا نتیا علم میں روز ازل سے تھی جو اک طاقت نہاں صاحبی میں تیری یہ راز آشکار ہو گیا ہو گئے ہر براعظم میں ترے برپا علم تیرے بیٹے اور جہازوں سے سمندر پٹ گیا شاعروں کے جس قدر مدح سلف میں تھے غلو حق میں تیرے وہ حقائق بن گئے سرتا پا تھی خبر کس کو ہو اک خردل کا پیڑا تنا بڑا جس کی شاخوں پر کریں بسرام مرغان ہوا دست قدرت نے بنایا گو کہ تھا عورت تجھے پر جواں مردوں یہ تھی عالم کے وقت تجھے قصیده مبارک باد جشن جو بلی ملکہ وکٹوریہ قیصرہ ہند حسب ایما مسٹر ہاول صاحب حج ۱۸۷۷ء زمانے میں خوشی کا دور ہے ، عشرت کا ساماں ہے برنگ گل، ہر اک باغ جہاں میں آج خنداں ہے کوئن وکٹوریہ کی جوبلی کی دھوم ہے ہر ادھر ہے نغمہ عشرت ، ادھر نور چراغاں ہے PALAU P سسسل wwwwwwwwwwwwwwwwwwww۔w--al B