برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 12
: ڈکشنری کی اشاعت کے ساتھ ہی انگلستان کے وزیر اعظم لارڈ پامرسٹن اور وزیر ہند سر چارلس وڈ سے آرچ بشپ آف کنٹر بری کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی۔وفد میں ہاؤس آف کامنز اور ہاؤس آف لارڈز کے ممبر بھی شامل تھے۔وزیر ہند نے اس وفد سے مخاطب ہو کر فرمایا: ” میرا ایمان ہے کہ ہر وہ نیا عیسائی جو ہندوستان میں عیسائیت قبول کرتا ہے انگلستان کے ساتھ ایک نیا رابطہ اتحاد بنتا ہے اور ایمپائر کے استحکام کا موجب بنتا ہے“ ("THE MISSION" BY R۔CLARK LONDON : P 234) اس موقعہ پر وزیر اعظم نے انگریزی سلطنت کی مستقبل کی پالیسی کا ان الفاظ میں نمایاں ذکر کیا: دو میں سمجھتا ہوں ہم سب ( یعنی پادری اور انگریزی حکومت کی انتظامیہ۔ناقل ) اپنے مقصد میں متحد ہیں ( یہ ہمارا فرض ہی نہیں بلکہ ہمارا مفاد بھی اسی میں وابستہ ہے کہ ہم عیسائیت کی تبلیغ کو جہاں تک ہو سکے، فروغ دیں اور ہندوستان عمر ہے 66 = (ایضاً) کے کونے کونے میں اسے پھیلا دیں اسی طرح کیمبرج شارٹر ہسٹری آف انڈیا مطبوعہ کیمبرج پریس کے صفحہ ۱۶،۷۱۵ے میں لکھا ہے: خدا تعالیٰ نے اپنی مشیت کے ماتحت ہندوستان کو برطانیہ کے ہاتھ میں اس لئے دیا ہے کہ لوگوں کو عیسائی بنایا جا سکے لارڈ لارنس (۱۸۶۹۱۸۹۳) نے واضح طور پر اعلان کیا۔کوئی چیز بھی ہماری سلطنت کے استحکام کا اس سے زیادہ موجب نہیں ہو سکتی کہ ہم عیسائیت کو ہندوستان میں پھیلا دیں ( ترجمہ ) " (LORD LAWRENS, LIFE VOL 2 P:313) مشقوں کی تاریخ سے ثابت ہے کہ سیالکوٹ کا سکاچ مشن خاص طور پر جنگی مقاصد کی 16 تحمیل کے لئے قائم کیا گیا۔خدا کی مصلحت خاص سے کا سر صلیب حضرت مسیح موعود علیہ السلام M کوخلوت گزینی سے فطری نفرت کے باوجود اپنے والد ماجد کے حکم پر ۱۸۶۴ء سے ۱۸۶۷ء تک سیالکوٹ کچہری میں ملازمت کرنا پڑی جس کے دوران آپ نے عیسائی مشنریوں کے چھکے چھڑا دئے اور ان کا ناطقہ بند کر دیا جس کا اعتراف سراقبال کے استاد اور سکاچ مشن کے پروفیسر مولانا حافظ سید میر حسن شاہ سیالکوٹی (ولادت ۱۸ را پریل ۱۸۴۴ء وفات ۲۵ / ستمبر ۱۹۲۹ء) نے اپنے خود نوشت اور چشم دید بیان میں بھی کیا جو پہلی بارا کتوبر ۱۹۱۵ء میں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے ”حیاۃ النبی جلد اوّل صفحہ ۵۹-۶۲ میں شائع کیا۔دوسری مرتبہ ۱۹۲۳ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ان سے رابطہ کر کے پورا بیان ان کے قلم سے لکھا ہوا دوبارہ حاصل کیا اور اسے سیرت المہدی حصہ اوّل صفحه ۱۵۴ پر زیب اشاعت فرمایا۔یہ تو کا سر صلیب کے عیسائیت کے خلاف جہاد کا نقطہ آغاز تھا۔جس کے بعد اگرچہ یز افسروں اور پادریوں نے آپ کے خلاف مخالفت کے شدید طوفان اٹھائے حتی کہ اقدام قتل کے مقدمے بھی دائر کئے گئے مگر آپ دیوانہ وار آخری دم تک رد عیسائیت اور دفاع اسلام کے جہاد میں سرگرم عمل رہے۔یہ مدافعت کس فاتحانہ شان کی تھی ؟ اس کا زبردست اعتراف کرتے ہوئے مولانا نور محمد صاحب نقشبندی چشتی مالک اصبح المطابع دہلی نے لکھا: ولایت کے انگریزوں نے روپے کی بہت بڑی مدد کی اور آئندہ کی مدد لیکر ہندوستان میں داخل ہو کر بڑا تلاطم بر پا کیا۔۔۔مسلسل وعدوں کا اقرا تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے اور پادری اور اس کی جماعت سے کہا کہ عیسی جس کا تم نام لیتے ہو، دوسرے انسانوں کی طرح فوت ہو چکا ہے اور جس عیسی کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں۔۔۔۔۔اس ترکیب سے اس نے نصرانیوں کو اتنا تنگ کیا کہ اس کو پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا۔اور اس ترکیب سے اس نے سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی۔" (دیباچه قرآن صفحه ۳۰ بر ترجمه مولوی اشرف علی صاحب تھانوی مطبوعہ دہلی ) ہندوستان۔۔۔۔۔۔۔۔