برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی

by Other Authors

Page 15 of 29

برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 15

j شان و شوکت سے منایا جس نے حضرت مسیح موعود کی حقانیت پر دن چڑھا دیا کیونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو بھی مسلم ہے ” نظام عالم میں جہاں اور قوانین خداوندی ہیں یہ بھی ہے کہ کا ذب مدعی نبوت کی ترقی نہیں ہوا کرتی بلکہ وہ جان سے مارا جا تا ہے۔۔۔خدا نے کبھی کسی جھوٹے نبی کو سر سبزی نہیں دکھائی۔(تفسیر ثانی صفحہ ۷ مع حاشیه مطبوعہ امرتسر ۱۳۱۳ھ مطابق ۱۸۹۶ء) خدائی عدالت کے اس فیصلہ اور اس کی نصرت کے اس آسمانی نشان سے احراری بوکھلا اٹھے اور دروغ گوئی کا نیا دفتر کھول لیا چنانچہ ایک تو یہ مفتر یا نہ پراپیگنڈا کیا کہ: " جرمنی اور برطانیہ میں قادیانیوں کے سالانہ اجتماعات کے تمام اخراجات جو کروڑوں ڈالر میں ہوتے ہیں ، وہ غیر مسلم ادا کرتے ہیں این جی اوز صفحه ۱۶۰ از انور ہاشمی پیاشرفیکٹ پبلیکیشنز لاہور ) اس شر انگیز پراپیگنڈا کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ نام نہاد محافظین ختم نبوت“ اور فرقہ پرست جماعتوں کی دہشت گردی پر کسی طرح پردہ ڈالا جا سکے۔ملک کے ممتاز محقق اور نامور مفکر جناب موسیٰ خان جلال زئی نے اپنی کتاب این جی اوز میں سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ: تا کی پی او این جی اوز کی طرح آر این جی اوز بھی ہیں جو نہ ہی تنظیمیں اور اسوقت پاکستان کی جو سیاسی صورتحال ہے اور جو عدم استحکام ملکی صورتحال میں پایا جاتا ہے اس میں زیادہ تر حصہ ان مذہبی تنظیموں کا جن کی سیاست ملک کے نام پر چمک رہی ہے لیکن اصل میں وہ غیر ملکی اداروں سے فنڈ ز لیتی ہیں اور پھر ملک میں موجود نہ ہی گروپوں اور تنظیموں افسوس صد افسوس اس تفسیر کے پاکستانی ایڈیشن سے یہ پوری عبارت مع اس کے حاشیہ کے خارج کردی گئی ہے۔یہ ایڈیشن میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی نے چھپوایا ہے۔۔۔۔بر طانوی پلان اور ایک فرضی کہانی کو پیسہ اور اسلحہ فراہم کرتی ہیں۔۔۔اس سے دن بدن ملک کی جڑیں کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جارہی ہیں“ صفحه ۷ ا ناشر فیروز سنز لاہور اشاعت ۲۰۰۰ ء ) گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشتہ پنہاں ہاتھ میں خنجر کھلا (غالب) دوسرے یہ خالص گپ ایجاد کی کہ ۱۸۵۷ء میں انگریز جنرل نکلسن نے مرزا غلام احمد کو وفاداری کے صلے میں قادیان کے حقوق ملکیت دئے“ اہم واقعات صفحه ۱۵ از امتیاز خورشید شائع کردہ فیروز سنز طبع اول ۱۹۹۸ء) ۱۸۵۷ء میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی عمر مبارک صرف بائیس سال تھی اور آپ ان دنوں اپنے گھر میں خلوت نشین تھے اور ابتدائی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔لہذا آپ کا جنرل نکلسن کی کمان میں فوجی کارروائی میں حصہ لینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مستند برطانوی مورخ C۔E۔DUCKLAD نے جنرل نکلسن کی سوانح میں لکھا ہے کہ بغاوت فرو کرنے کے لئے ہے ا ر ا گست ۱۸۵۷ء کو دہلی پہنچا اور ۲۳ / ستمبر ۱۸۵۷ء کو مارا گیا۔(DICTIONARY OF INDIAN BIOGRAPHY صفحه ۵۱۳ مطبوعہ لندن یکم نومبر ۱۹۰۵ء) و پھر یہ بھی سوال ہے کہ جنرل نکلسن فوجی افسر تھا۔اسے حقوق مالکانہ دینے کے حقوق حاصل نہیں تھے بایں ہمہ اگر اس نے دہلی میں چند ہفتے کی لڑائی کے دوران ایسی حرکت کی ہے تو اس کی دستاویز کہاں ہے؟ کیا احرار کے مرکزی دفتر میں ہے یا اسے ”امیر شریعت کے ساتھ ہی ملتان میں دفن کر دیا گیا ہے۔2۔دوستو ایک نظر خدا کے لئے سید الخلق مصطفی کے لئے